تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 532
آتا ہے اِنَّهٗ لَا يَايْـَٔسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ(یوسف:۸۸)۔یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کافر لوگوں کے سوا کوئی انسان ناامید نہیں ہوتا۔پس خدا تعالیٰ کے فضل سے مایوسی نبیوں کی طرف منسوب نہیں کی جاسکتی۔اسی طرح یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ نبی خدانخواستہ یہ خیال کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے جھوٹ بولا کیونکہ اگر نبی جو معلم اور نمونہ ہوتے ہیں خدا تعالیٰ پر ایسی بدگمانی کریں تو دوسرے لوگوں کو وہ یقین کب میسر آسکتا ہے جو ہر شک و شبہ سے انسان کو بچا لیتا ہے۔آیت کے چار معنی لیکن یہ شبہ سطحی نظر کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ورنہ اس آیت کے یہ معنی نہیں ہیں بلکہ مندرجہ ذیل معانی ہیں: (۱)جس طرح پہلی آیت میں نبیوں اور ان کے مخالفوں کا ذکر تھا اس آیت میں بھی دونوں ہی کا ذکر ہے اور پہلے جملہ میں نبیوں کا ذکر ہے اور دوسرے یعنی ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا میں کفار کا۔اور مراد یہ ہے کہ لوگ شرارت میں بڑھتے چلے گئے اور نبیوں نے خیال کرلیا کہ جس قدر لوگوں کے لئے ایمان مقدر تھا وہ ایمان لاچکے بقیہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے اوران کی ہدایت سے مایوس ہو گئے نہ کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے۔اور باقی بالمقابل کفار بھی جو پہلے ڈر رہے تھے کہ شاید نبیوں کی پیشگوئیاں پوری ہوکر انہیں تباہ کردیں عذاب اور فتح میں دیر ہونے کے سبب سے مطمئن ہو گئے اور انہیں یقین ہو گیا کہ ان پر کوئی عذاب نہیں آئے گا اور جو خبریں نبیوں نے دی تھیں جھوٹی تھیں۔تو عین اس وقت خدا تعالیٰ کی نصرت آگئی اور ائمۃ الکفر کو تباہ کرکے راستہ صاف کر دیا گیا۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو سب انبیاء کے وقت میں ظاہر ہوئی ہر نبی کے زمانہ میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے کہ آخری فیصلہ میں اس قدر دیر کردی گئی کہ بظاہر لوگ مطمئن ہوگئے۔تب خدا کی نصرت یکدم نازل ہوئی اور نبی اپنے دشمنوں پر غالب آگئے۔(۲) کُذِبُوا کا فاعل نفس کو سمجھا جائے اور یہ معنے کئے جائیں کہ انبیاء نے جب کفار کو شرارت میں بڑھتا دیکھا اور ادھر نصرت الٰہی میں دیر دیکھی تو یہ خیال کر لیا کہ انہوں نے کلام الٰہی کے جو معنے سمجھے تھے شاید وہ درست نہ تھے۔نصرت الٰہی نے کسی اور رنگ میں نازل ہونا ہوگا۔ان معنوں کے رو سے کُذِبُوْا کے معنی غلط امید دلانے کے ہوں گے اور مراد یہ ہوگی کہ نبیوں نے خیال کیا شاید ہمارے نفسوں نے کلام الٰہی کے غلط معنے سمجھ کر ایسی امیدیں دلادیں جو منشاء الٰہی کے خلاف تھیں اور یہ معنی بھی مقام نبوت کے خلاف نہیں کیونکہ نبی الٰہی کلام کے سمجھنے میں اجتہادی غلطی کرسکتا ہے۔پس کسی وقت نبی کو یہ خیال ہوجانا کہ جو معنے پیشگوئی کے میں نے سمجھے تھے شاید اس میں اجتہادی غلطی لگ گئی ہو اور نصرت الٰہی کسی اور رنگ میں آنی ہو قابلِ اعتراض امر نہیں۔