تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 533

(۳) کُذِبُوْا کا فاعل کفار کو سمجھا جائے اور نائب فاعل بدستور رسولوں کو اور معنے یہ ہوں کہ یہاں تک کہ ایک لمبا عرصہ گزر جانے پر رسولوں کو بقیہ کفار کے ایمان لانے سے مایوسی ہو گئی اور انہوں نے سمجھا کہ ہمیں جو ان کفار کی حالت سے یہ یقین پیدا ہوگیا تھا کہ یہ ایمان لے آئیں گے درست نہ تھا۔ان کی درمیانی حالت نے ہمیں دھوکا دیا ان معنوں کے رو سے قَدْ كُذِبُوْا اِذَا اسْتَيْـَٔسَ الرُّسُلُ کی تشریح سمجھا جائے گا گویا نبیوں کی مایوسی کے معنے یہ ہیں کہ انہوں نے خیال کرلیا کہ بقیہ کفار کی حالت سے جو ہم خیال کرتے تھے کہ یہ آخر ایمان لے آئیں گے یہ درست نہیں معلوم ہوتا اور یہ حالت بھی حق کو اکثر پیش آتی ہے۔بسا اوقات حق کو سن کر درمیانی عرصہ میں منکروں کی ایسی حالت ہوتی ہے کہ خیال ہوتا ہے اب یہ تسلیم کرلیں گے لیکن پھر شامت اعمال یا ضد یا تکبر کی وجہ سے وہ حق سے دور ہوجاتے ہیں۔(۴) قَدْ كُذِبُوْا کا فاعل اللہ تعالیٰ ہی کو سمجھا جائے اور نائب فاعل نبیوں کو لیکن کذب کے معنے جھوٹ کے نہ لئے جائیں بلکہ بظاہر جھوٹ نظر آنے والے صدق کے لئے جائیں اور یہ معنے جیسا کہ اوپر لکھا جاچکا ہے لغت سے ثابت ہیں اس صورت میں معنے یہ ہوں گے کہ نبی کفار کے ایمان سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے یہ سمجھا کہ خدا تعالیٰ نے جو یہ خبر انہیں دی تھی کہ یہ لوگ ایمان لائیں گے وہ ذوالمعانی تھی۔ہم نے جو معنے اس کے سمجھے تھے اور جو اب بظاہر پورا ہوتے نظر نہیں آتے وہ معنے کلام الٰہی کے نہیں تھے وہ ہماری اجتہادی غلطی تھی۔خدا تعالیٰ کی مراد کچھ اور تھی جو ہم سمجھ نہیں سکے۔تب یکدم اللہ تعالیٰ کی نصرت آگئی اور نقشہ کچھ کا کچھ ہو گیاا ور نبیوں کو غلبہ نصیب ہو گیا۔لَقَدْ كَانَ فِيْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ ان (لوگوں) کے ذکر میں عقل مندوں کے لئے ایک عبرت( کا نمونہ موجود) ہے۔یہ ایسی بات (ہرگز) نہیں ہےجو حَدِيْثًا يُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَ (اپنے پاس سے )گھڑی گئی ہو بلکہ (یہ) اس (کلام الٰہی کی پیشگوئی) کو کامل طور پر پورا کرنے والی ہے جو اس کے