تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 531 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 531

معنے ہیں اِذَا نَقَلَ الْکَذِبَ وَقَالَ خِلَافَ الْوَاقِعِ۔اس نے جھوٹی بات بیان کی اور خلاف واقع کہا۔کُذِبَ الرَّجُلُ: اُخْبِرَ بِالْکَذِبِ یعنی اسے جھوٹی خبر سنائی گئی۔(اقرب) پس ان مذکورہ بالا معنوں کے لحاظ سے وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا کے معنے ہو ںگے کہ کفار نے یہ خیال کرلیا کہ ان سے عذاب کے آنے کے متعلق جھوٹی خبریں سنائی گئیں ہیں۔کَذَبَتْہُ نَفْسُہٗ۔اِذَا مَنَّتْہُ الْاَمَانِیَ وَخَیَّلَتْ اِلَیْہِ مِنَ الْآمَالِ مَالَا یَکَادُ یَکُوْنُ۔کَذَبَتْہُ نَفْسُہٗ کے معنی ہیں کہ اس کو اس کے نفس نے ایسی امیدیں دلائیں جو پوری نہ ہونے والی تھیں۔اور اس کے دل میں ایسی آرزوئیں ڈالی گئیں جو بعیداز قیاس تھیں۔(اقرب) اس محاورہ کے لحاظ سے ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا کے معنے یوں ہوں گے کہ نبیوں نے خیال کیا کہ شاید ان کے نفسوں نے کلام الٰہی کے غلط معنے سمجھ کر ایسی امیدیں دلادیں جو منشائے الٰہی کے خلاف تھیں۔کَذَبَتْکَ عَیْنُکَ۔اَرَتْکَ مَالَا حَقِیْقَۃَ لَہٗ آنکھ نے ایسی چیز دکھائی جس کی کوئی حقیقت نہ تھی۔(اقرب) اس محاورہ کے رو سے ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا کے معنے یہ ہوں گے کہ نبیوں نے کفار کے حالات سے یہ نتیجہ نکالا کہ وہ ایمان لے آئیں گے لیکن ان کا خیال بے حقیقت نکلا۔قَالَ ابْنُ الْاَنْبَارِیْ اِنَّ الْکَذِبَ یَنْقَسِمُ اِلٰی خَمْسَۃِ اَقْسَامٍ وَالثَّانِیَ اَنْ یَّقُوْلَ قَوْلًا یُشْبِہُ الْکَذِبَ وَلَا یُقْصِدْ بِہٖ اِلَّا الْـحَقَّ وَالرَّابِعُ کَذَبَ الرَّجُلُ بِمَعْنٰی بَطَلَ عَلَیْہِ اَمَلُہٗ وَمَارَجَاہٗ (تاج العروس) ابن انباری نے کذب کی پانچ اقسام بیان کی ہیں اور دوسری قسم یہ بیان کی ہے کہ کذب اس صدق پر بولتے ہیں جو بظاہر جھوٹ نظر آئے اور چوتھی قسم یہ بیان کی ہے کہ کَذَبَ الرَّجُلُ کے معنے ہوتے ہیں اس کی امید درست ثابت نہ ہوئی۔پس مندرجہ بالا کذب کے معنوں کے لحاظ سے ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا کی یہ تشریح ہوگی کہ جب نبی کفار کے ایمان سے مایوس ہو گئے تو انہوں نے یہ سمجھا کہ خدا تعالیٰ نے جو خبر انہیں دی تھی کہ وہ لوگ ایمان لائیں گے وہ ذوالمعانی تھی۔جو معنے اس کے سمجھے گئے وہ معنے اس کلام کے نہیں تھے۔اَلْبَأْسُ۔اَلْعَذَابُ۔بَاْسٌ کے معنے ہیں عذاب۔وَالشِّدَّۃُ فِی الْحَرْبِ۔لڑائی میں سختی۔وَالْقُوَّۃُ۔قوت۔وَمِنْہُ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْہِ بَأْسٌ شَدِیْدٌ۔اَیْ قُوَّۃٌ اور آیت اَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ فِيْهِ بَاْسٌ میں بَأْ سٌ کے معنے قوت کے ہیں۔وَالْخَوْفُ۔خوف۔(اقرب) تفسیر۔یہ آیت مشکل آیات میں سے قرار دی گئی ہے اس آیت کو نہایت مشکل آیات میں سے قرار دیا گیا ہے کیونکہ بظاہر اس کے یہ معنے بنتے ہیں کہ رسول ناامید ہو گئے اور انہوں نے یہ خیال کرلیا کہ ان سے جو فتوحات کے وعدے کئے گئے تھے وہ جھوٹے تھے اور یہ دونوں باتیں رسالت کی منافی ہیں کیونکہ اسی سورۃ میں