تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 530
میں آکر اپنے آپ کو تباہ نہ کرلینا جو پہلے نبیوں کے دشمنوں سے ہوا وہی اس کے مخالفوں سے ہوکر رہے گا۔وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۔آخر میں فرمایا کہ کفار اپنی موجودہ شان و شوکت کا خیال نہ کریں۔اس پر غور کریں کہ جو قوم عدل و انصاف کرے اور خدا سے ڈرے انجام کار اسی کی فتح ہوتی ہے اور یہ قاعدہ ایسا بدیہی ہے کہ تعجب ہے لوگ اسے کس طرح بھول جاتے ہیں۔دنیا کو ایک وقت تک دھوکا دیا جاسکتا ہے ایک لمبے عرصہ تک دھوکا نہیں دیا جاسکتا۔آخر لوگ اپنے نفع نقصان کو دیکھتے ہوئے ان لوگوں کا ساتھ دینے پر مجبور ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے بنی نوع انسان کی بھلائی کرتے ہیں اور اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور اس وقت ظلم کرنے والوں کی حقیقت کھل جاتی ہے۔خَیْرٌ کا لفظ استعمال کرنے کی وجہ خَیْرٌ کے لفظ سے جس کے معنے زیادہ بہتر کے ہوتے ہیں اس طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ موجودہ حالت بھی متقی کی اچھی ہوتی ہے۔گو وہ دوسروں کی نگاہوں سے مخفی ہو کیونکہ بے غرضی سے اور صرف خدا تعالیٰ کے لئے کام کرنا دل میں ایک ایسی طاقت پیدا کردیتا ہے کہ باوجود ظاہری کمزوری کے بشاشت اور اطمینان ایسے ہی شخص کو نصیب ہوتا ہے۔برخلاف اس کے خدا تعالیٰ سے دوری اور لالچ اور خودغرضی کی حالت عدم اطمینان پیدا کرتی ہے اور حقیقی آرام میسر نہیں آنے دیتی۔مومن کی ہر حالت اچھی ہوتی ہے پس ابتدائی حالت بھی مومن ہی کی اچھی ہوتی ہے مگر آخری تو ایسی نمایاں طور پر اچھی ہوتی ہے کہ دشمن کو بھی انکار کی گنجائش نہیں رہتی۔حَتّٰۤى اِذَا اسْتَيْـَٔسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا یہاں تک کہ جب (ایک طرف تو) رسول( ان کی جانب سے) ناامید ہوگئے اور( دوسری طرف) ان( منکروں) کا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّيَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا يُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ (یہ) پختہ خیال ہو گیا کہ ان سے (وحی کے نام سے) جھوٹی باتیں کہی جا رہی ہیں تو (اس وقت) ان( رسولوں) کے الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ۰۰۱۱۱ پاس ہماری مدد آگئی اور جنہیںہم بچانا چاہتے تھے (انہیں) بچا لیا گیا اور مجرم لوگوں سے ہمارا عذاب (ہرگز) نہیںہٹایاجاتا۔حلّ لُغَات۔کُذِبُوْا۔کُذِبُوْاکَذَبَ سے جمع مذکر غائب مجہول کا صیغہ ہے اور کَذَبَہُ الْحَدِیْثَ کے