تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 529 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 529

خواہ کام کتنا بڑا ہو مجھے اپنی کامیابی میں کوئی شبہ نہیں۔ایمان بغیر بصیرت کے قوم میں شرک پیدا کرتا ہے دوسرے اس طرف بھی اشارہ کیا کہ جب بھی ایمان بغیر بصیرۃ کے ہوگا قوم میں ضرور شرک پیدا ہوجائے گا۔وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْۤ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ اور تجھ سے پہلے (بھی) ہم (لوگوں کی رہنمائی کے لئے ہمیشہ) انہی (دنیا کی) بستیوں کے رہنے والے مردوں ہی کو الْقُرٰى ١ؕ اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ جن پر ہم (اپنی) وحی نازل کرتے تھے رسالت دے کر بھیجتے رہے ہیں تو کیا یہ( لوگ) زمین میں نہیں پھرے تا عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ دیکھتے (کہ) جو( لوگ) ان سے پہلے (انبیاء کے منکر) تھے ان کا انجام کیسا ہواتھا اور آخرت کا گھر ان لوگوں کے لِّلَّذِيْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۰۰۱۱۰ حق میں جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا یقیناً زیادہ بہتر ہے پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔تفسیر۔نبی صرف مردوں میں سے آتے ہیں اس آیت سے نتیجہ نکلتا ہے کہ نبی صرف مردوں میں سے آتے ہیں۔عورت بعض حکمتوں کی وجہ سے اس عہدہ پر مقرر نہیں ہوتی۔حقیقت یہ ہے کہ مرد اور عورت کو اللہ تعالیٰ نے الگ الگ کام کے لئے بنایا ہے۔نبوت کا منصب عورت کے دائرہ عمل سے باہر ہے اور چونکہ نبوت کا منصب عورت کے دائرہ عمل سے باہر ہے اس لئے اس پر صرف مردوں کو مقرر کیا جاتا ہے۔باقی انعامات چونکہ عورتوں کے دائرہ سے باہر نہیں ان میں وہ مردوں کے ساتھ شریک ہیں۔وہ صدّیقہ ہوسکتی ہیں اور ہوتی ہیں۔ولیہ ہوسکتی ہیں اور ہوتی ہیں۔قانتہ ہوسکتی ہیں اور ہوتی ہیں۔غرض سوائے نبوت کے کہ وہ ایک عہدہ ہے باقی سب انعامات ان کو مل سکتے ہیں اور ملتے رہے ہیں۔مفہوم آیت کا یہ ہے کہ پہلے بھی نبی انسانوں اور ان میں سے بھی مردوں میں سے آتے رہے ہیں۔پس یہ خیال کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو ہمارے جیسا انسان ہے نبی کس طرح ہو گیا ایک وسوسہ ہے۔اس وسوسہ کے دھوکے