تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 528
پھر فرمایا کہ تو کہہ دے کہ اس عظیم الشان خدمت میں بھی میں جبر سے کام نہیں لیتا بلکہ دلائل اور براہین سے تم پر حقیقت کو آشکار کرتا ہوں۔تعجب ہے کہ اس تعلیم کی موجودگی میں مسلمانوں میں سے بعض جبر کے طریق کو پسند کرتے اور اس طرح اسلام کو دشمنوں کی نگاہ میں رسوا کرتے ہیں۔آنحضرت ؐ کا کامل متبع وہ ہے جو آپ کو عقل اور دلیل سے مانتا ہے یہ آیت بتاتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہی کامل متبع کہلا سکتا ہے جو عقل اور دلیل کے ماتحت آپ کو مانتا ہے۔جو مسلمان ایسا ہے کہ وہ اسلام کو یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کو، نبیوں کو، قیامت اور حشر نشر کو تقدیر اور فرشتوں کو عقل اور دلائل کے ساتھ سمجھ کر نہیں مانتا بلکہ محض نقل اور تقلید کے طور پر مانتا ہے وہ اس آیت کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا متبع نہیں کہلا سکتا۔خالی کہہ دینا کہ میں قرآن کو مانتا ہوں جبکہ نہ قرآن کریم کی صداقت کے دلائل معلوم ہوں نہ ان امور کے جو اس میں مذکور ہیں۔کسی کو رسول کریم کا متبع نہیں بنا سکتا۔آپؐ کے متبع تو بینا ہوتے ہیں اور ایسا شخص اندھا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ دوسرے لوگ دوسری کتب کے اندھے ہیں یہ شخص قرآن کریم کا اندھا ہے۔اپنی نسلوںکو اسلام کی حقیقت سے آگاہ کرناضروری ہے پس اس آیت نے مسلمانوں کی ذمہ داری بہت بڑھا دی ہے۔جب تک وہ اپنی نسلوں کو اسلام کی صداقت کے دلائل سے آگاہ نہیں رکھتے اور دلائل بھی وہ جو بصیرت پیدا کرتے ہیں صرف عقلی نہیں بلکہ عقل اور مشاہدہ کا مجموعہ دلائل۔اس وقت تک وہ رسول کریمؐ کے متبع نہیں پیدا کرتے بلکہ ایک بے سر فوج پیدا کررہے ہیں۔افسوس آج کل مسلمان اس دور انحطاط سے گزررہے ہیں اور اسی وجہ سے ان کے سر کفار کے سامنے جھکے ہوئے ہیں اور ان کی باتیں بے اثر ہوگئی ہیں۔بجائے غیر قوموں میں تبلیغ اسلام کے اسلام سے لوگ مرتد ہونے لگے ہیں۔اِنَّالِلہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔سُبْحَانَ اللہِ کہنے کی وجہ سُبْحٰنَ اللہِ کہہ کر بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ کو زبردستی مسلمان بنانے کی کیا ضرورت؟ زبردستی کا ایمان بے فائدہ شئے ہے۔زبردستی تو وہ لوگ کرتے ہیں جو لوگوں کی اتباع میں اپنی شان دیکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ عیبوں سے پاک ہے۔اس میں کون سی کمی آتی ہے اگر لوگ اس پر ایمان نہ لائیں۔پھر جبر وہ کرتا ہے جو دلائل سے نہ منواسکے۔اور یہ بھی نقص ہے اور اللہ تعالیٰ نقصوں سے پاک ہے۔وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ کہہ کر یہ بتایا ہے کہ گو یہ کام جو میں نے اپنے ذمہ لیا ہے بہت بڑا ہے لیکن میں شرک سے کلی پاک ہوں اور میری نگاہ میں یہ کام بڑا نہیں۔میں خدا تعالیٰ پرکامل توکل رکھتا اور غیراللہ کو حقیر سمجھتا ہوں۔پس