تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 513

کاموں کے ساتھ انشاء اللہ کہتا ہے تو اپنے ارادہ اور فعل میں خدا تعالیٰ کو شامل کرلیتا ہے اور اس طرح انہیں شیطانی تصرف سے بچانے کی کوشش کرتا ہے اور یہ یقینی امر ہے کہ جو شخص سچے دل سے انشاء اللہ کہہ کر اپنے کام میں اللہ تعالیٰ کو شامل کرلے گا جب اس کام کا وقت آئے گا تو وہ اسے نیکی اور تقویٰ کے ساتھ ادا کرنے کی کوشش کرے گا۔دوسرے جب کوئی شخص انشاء اللہ سوچ سمجھ کر کہنے اور پھر مستقبل کے کام کے متعلق کہنے کی عادت ڈال لے تو وہ گناہ کا ارادہ کرنے سے بچ جاتا ہے۔کیونکہ گناہ کے متعلق انشاء اللہ نہیں کہا جاسکتا۔پس جب کبھی کسی بد فعل کے متعلق وہ ارادہ ظاہر کرنے لگے گا انشاء اللہ کی عادت اس کے دل میں ندامت اور شرمندگی پیدا کردے گی۔ذکر الٰہی اور توکّل روحانیت کی جان ہیں علاوہ ازیں انشاء اللہ کہنے کی عادت ذکرالٰہی کا باعث ہوتی ہے اور توکل کا سبق دیتی ہے اور یہی باتیں روحانیت کی جان ہیں۔حضرت یوسفؑ کو مصر میں آل یعقوب کے لئے پیش آمدہ خطرات کا علم دیا گیا تھا اُدْخُلُوْا اٰمِنِیْنَ کے الفاظ گو دعائیہ نہیں لیکن مراد اس سے دعا ہے۔شاید حضرت یوسفؑ کو الہاماً ان خطرات کا علم دیا گیا ہو جو آئندہ آل یعقوب کو مصر میں پیش آنے والے تھے۔پس انہوں نے ان کے لئے دعا کردی کہ ا للہ تعالیٰ ان خطرات کے تباہ کن اثرات سے ان کو محفوظ رکھے۔آنحضرت صلعم کی حضرت یوسفؑ سے مشابہت اس معاملہ میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت یوسفؑ سے مشابہت ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی شہر میں داخل ہونے سے پہلے دعا کرلیا کرتے تھے۔شہر میں داخل ہونے کی دعا آپؐ شہر میں داخلہ سے پہلے ان الفاظ میں دعا کرتے اللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَمَااَظْلَلْنَ وَرَبَّ الْأَرَضِیْنَ السَّبْعِ وَمَااَقْلَلْنَ وَرَبَّ الشَّیٰطِیْنِ وَمَا اَضْلَلْنَ وَرَبَّ الرِّیَاحِ وَمَاذَرَیْنَ۔فَاِنَّا نَسْئَلُکَ خَیْرَھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ وَخَیْرَ اَھْلِہَا وَخَیْرَ مَافِیْہَا وَنَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ وَشَرِّ اَھْلِہَا وَشَرِّ مَافِیْہَا اللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہَا وَارْزُقْنَا جَنَاھَا (یا جَیَاھَا) وَاَعِذْنَا مِنْ وَبَاھَا وَحَبِّبْنَا اِلٰی اَھْلِہَا وَحَبّبْ صَالِـحِیْ اَھْلِہَا اِلَینَا۔شہر میں داخل ہونے کی دعا کے متعلق تجربہ میرا اور دوسرے دوستوں اور ہم سے پہلے بزرگوں کا بھی یہ تجربہ ہے کہ جو لوگ یہ دعا پڑھتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرتا ہے اور ان کو آفات سے بچاتا ہے۔