تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 512 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 512

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى يُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا پھر جب وہ (سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور( سب سے) کہا (کہ) مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَؕ۰۰۱۰۰ اگر اللہ (تعالیٰ) کی مشیت (شامل حال) ہو تو تم امن (اور سلامتی) کے ساتھ مصر میں داخل ہو جاؤ۔تفسیر۔سوتیلی ماؤں کا ایسا ہی ادب چاہیے جیسے حقیقی ماؤں کا اللہ تعالیٰ نے بار بار اَبَوَیْہِ کا لفظ رکھ کر یہ بتایا ہے کہ باوجودیکہ حضرت یوسفؑ کی حقیقی والدہ فوت ہوچکی تھیں اور موجودہ والدہ ان کی سوتیلی والدہ تھیں مگر وہ ان کا پورا ادب اور لحاظ و احترام کرتے تھے (پیدائش باب ۳۵ آیت ۱۹)۔اس میں یہ نصیحت ہے کہ اولاد کو یہ مدنظر رکھنا چاہیے کہ سوتیلی مائیں بھی مائیں ہی ہوتی ہیں۔ان کے ساتھ سلوک کرنے میں اور ان کے احترام میں اسلام کوئی فرق نہیں کرتا۔پس اولاد کو چاہیے کہ وہ ان کا بھی ویسا ہی لحاظ کریں جیسا کہ حقیقی ماؤں کا کرنا چاہیے۔حضرت یوسفؑ نے اپنے والد کا استقبال کیا اُدْخُلُوْا مِصْرَ سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت یوسفؑ اپنے باپ کے استقبال کے لئے آگے آئے تھے۔استقبال پسندیدہ امر ہے جس سے ثابت ہوا کہ ایک نبی بھی اپنے والدین کے استقبال کے لئے باہر جاتا ہے تو استقبال نہ صرف جائز بلکہ پسندیدہ امر ہے۔حضرت یوسف ؑکی روحانیت حضرت یوسفؑ کی روحانیت دیکھو کہ ان کے بھائی تو بڑے بڑے کاموں کے لئے انشاء اللہ نہیں بولتے اور تمام کاموں کو اپنی طرف منسوب کرتے ہیں۔مگر یہ ہیں کہ اس حالت میں بھی کہ شہر سامنے ہے سواریاں موجود ہیں اور خود گویا وزیراعظم ہیں مگر انشاء اللہ کہہ رہے ہیں کہ باوجود ان سامانوں کے ممکن ہے کہ اگر خدا نہ چاہے تو ہم داخل نہ ہوسکیں۔انشاء اللہ کہنے سے روحانی ترقی سچے دل سے انشاء اللہ کہنا روحانی ترقی سے بہت کچھ تعلق رکھتا ہے۔زندگی سے ماضی انسان کے بس سے نکل چکا ہوتا ہے۔حال اتنا چھوٹا عرصہ ہے کہ درحقیقت وہ ماضی اور مستقبل کی سرحد کا نام ہے۔باقی رہا مستقبل سو وہی اصل زمانہ ہے جس سے انسان فائدہ اٹھا سکتا ہے۔پس جب انسان مستقبل کے