تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 514
وَ رَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ اور اس نے اپنے ماں باپ کو تخت پر بٹھایا اور وہ( سب) اس کی وجہ سے (خدا کا شکر کرتے ہوئے) سجدہ میں گر گئے يٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ١ٞ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ اور اس نے (یعنی یوسف نے) کہا اے میرے باپ یہ میری پہلے سے (خواب میں) دیکھی ہوئی بات کی حقیقت کا حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِيْۤ اِذْ اَخْرَجَنِيْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ اظہارہے اللہ (تعالیٰ) نے اسے پورا کر دیا ہے اور اس نے مجھ پر (بہت بڑا) فضل کیا ہے۔کیونکہ اس نے (پہلے) بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّيْطٰنُ بَيْنِيْ وَ مجھے قید خانہ سے نکالا اور( مجھے اس عزت کے مقام پر پہنچا کر اس کے بعد )وہ تمہیں جنگل (کے علاقہ) سے (نکال کر بَيْنَ اِخْوَتِيْ١ؕ اِنَّ رَبِّيْ لَطِيْفٌ لِّمَا يَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ میرے پاس) لایا۔بعد اس کے کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں بگاڑ پیدا کر دیا تھا۔میرا رب جس الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ۰۰۱۰۱ سے چاہتا ہے لطف (و احسان) کا معاملہ کر تا ہے یقیناً وہی( ہے جو) خوب جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔حلّ لُغَات۔رَفَعَ رَفَعَہٗ رَفْعًا ضِدُّ وَضَعَہٗ۔رَفَعَ کے معنے ہیں بلند کرنا۔زَیْدًا اِلَی الْحَاکِمِ رَفْعًا وَرُفْعَانًا قَدَّمَہٗ اِلَیْہِ لِیُحَاکِمَہُ زید کو حاکم کے سامنے مقدمہ کے فیصلہ کے لئے حاضر کیا۔اِلَی السُّلْطَانِ رُفْعَانًا قَرَّبَہٗ۔بادشاہ کے حضور پیش کیا۔(اقرب) اَلرَّفْعُ یُقَالُ تَارَۃً فِی الْاَجْسَامِ الْمَوْضُوْعَۃِ اِذَا أَعْلَیْتَہَا عَنْ مَقَرِّھَا وَتَارَۃً فِی الْمَنْزِلَۃِ اِذَا شَرَّفْتَہَا۔رَفَعٌ کا لفظ جب اجسام کے لئے استعمال ہو تو کبھی اس کے معنے ان کو ان کی اصل جگہ سے بلند کرنے کے ہوتے ہیں اور کبھی درجہ اور رتبہ میں فضیلت دینے کے۔وَاِلَی السَّمَآءِ کَیْفَ رُفِعَتْ۔اِشَارَۃٌ اِلَی الْمَعْنَیَیْن اِلٰی اِعْلَاءِ مَکَانِہٖ وَاِلَی مَاخُصَّ بِہٖ مِنَ الْفَضِیْلَۃِ وَشَرَفِ الْمَنْزِلَۃِ چنانچہ آیت اِلَی السَّمَآءِ کَیْفَ رُفِعَتْ میں رفع کے