تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 511 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 511

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ اس نے کہا میں (ضرور) تمہارے لئے اپنے رب سے بخشش طلب کروں گا یقیناً وہی( ہے جو) بہت بخشنے والا الرَّحِيْمُ۰۰۹۹ (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔تفسیر۔ایک نکتہ اس جگہ ایک عجیب نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔حضرت یعقوبؑ نے سَوْفَ کا لفظ بولا ہے جو مستقبل بعید کے لئے اور کلام پر زور دینے کے لئے آتا ہے۔اس میں انہوں نے گویا انسانی فطرت کا صحیح نقشہ کھینچا ہے۔اور بتایا ہے کہ رنج اور غصہ زائل ہوکر فوراً نئی محبت پیدا نہیں ہوسکتی۔انسان کے دل سے رنج و غصہ کے اثرات مٹنے کے لئے ایک زمانہ چاہیے۔حضرت یوسف اور حضرت یعقوب کے معافی کے الفاظ میں فرق حضرت یوسفؑ تو چونکہ دیر سے تیار ہورہے تھے کہ معاف کر دیں اس لئے انہوں نے سَوْفَ نہیں کہا بلکہ فوراً لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ١ؕ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ کہہ دیا۔مگر حضرت یعقوبؑ کو اچانک یہ خبر ملی اس لئے انہوں نے کہا کہ کچھ وقت چاہیے تا قلب سے ناراضگی کا اثر دور ہوکر استغفار کی تحریک ہو۔مگر ساتھ ہی انہوں نے اپنے بیٹوں کے اس ملال اور گھبراہٹ کو جو سَوْفَ کے لفظ کی وجہ سے پیدا ہوسکتا تھا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ کہہ کر دور کر دیا کہ گھبراؤ نہیں اللہ تعالیٰ تمہارے زنگ دھودے گا اور بہت رحم کرے گا۔ہمارے ملک میں بعض لوگ قصور کرکے اسی وقت اڑ بیٹھتے ہیں کہ آپ معاف کریں گے تو اٹھوں گا اور ان کی مراد اس معافی سے یہ ہوتی ہے کہ دل میں ان کے متعلق وہی محبت پیدا ہوجائے۔حالانکہ یہ بات قدرتی قاعدہ کے خلاف ہے۔معافی کی دوا قسام معافی دو قسم کی ہوتی ہے ایک یہ کہ سزا نہ دی جائے۔یہ تو ایک منٹ میں ہوسکتی ہے۔دوسرا یہ کہ پھر وہی تعلقات محبت ہوجائیں۔سو اس کے لئے کچھ وقت ہوتا ہے اور یہ جبر یا ستیہ گرہ سے نہیں ہوسکتی۔