تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 476
کچھ نہیں کرسکتا۔حضرت یعقوبؑ کو الہاماً حالات معلوم ہوگئے تھے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ یوسفؑ کے پاس جاتے ہوئے الگ الگ دروازوں سے جانا۔اس صورت میں ماننا پڑے گا کہ انہیں الہاماً حالات معلوم ہو گئے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ بن یامین کو یوسف ؑ سے الگ ملنے کا موقعہ مل جائے تاکہ وہ انہیں گھر کے حالات سے مطلع کر دیں۔عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ کا مطلب عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ کہہ کر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ میرا اصل یقین خدا کی ذات پر ہے نہ اپنی تدبیر پر۔اور اپنے لڑکوں کو جو ہمیشہ اپنی تدابیر پر بھروسہ کرتے تھے سبق دیا ہے کہ جب خدا تعالیٰ کے نبی جو عقلاً بھی دنیا سے ممتاز ہوتے ہیں الٰہی نصرت کو ہی اصل چیز تصور کرتے ہیں تو دوسرے کیوں ایسا نہ کریں؟ توکل کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ اس کے یہ معنی نہیں کہ انسان تدبیر نہ کرے بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ باوجود تدبیر کے خدا تعالیٰ پر ہی بھروسہ کرے اور یقین رکھے کہ تدبیر بھی تبھی نفع دیتی ہے جب خدا تعالیٰ کی نصرت ساتھ ہو۔وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَيْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ يُغْنِيْ اور جب اس طریق کے مطابق جس کا حکم ان کے باپ نے انہیں دیا تھا۔وہ داخل ہوئے تو (وہ غرض پوری ہوگئی جس عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِيْ نَفْسِ کے لئے انہیں یہ حکم دیا گیا تھا لیکن) وہ اللہ( کی گرفت) سے (بچانے کے لئے) ان کے کچھ بھی کام نہیں آسکتا تھا يَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ ہاں مگر یعقوبؑ کے دل میں ایک خواہش تھی جسے اس نے (اس طرح) پورا کرلیا۔اور اس وجہ سے کہ اسے ہم نے علم اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَؒ۰۰۶۹ بخشا تھا۔وہ بڑے علم والا تھا لیکن اکثر لوگ( اس حقیقت کو )نہیں جانتے۔حل لغات۔اَلْحَاجَۃُ۔اَلْحَاجَۃُ اَلسُّؤْلُ۔حاجت کے معنی ہیں مطلوب، خواہش۔(اقرب) تفسیر۔حضرت یعقوبؑ کو یوسف ؑکے زندہ ہونے کا علم تھا۔گو حضرت یعقوب علیہ السلام کو یہ بتایا گیا تھا کہ یوسفؑ زندہ ہیں لیکن انہیں قطعی طور پر اس کا علم نہ تھا کہ مصر کے غلہ بانٹنے والے وزیر وہی ہیں۔