تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 477

پس اپنے بیٹوں کے اس خوف سے متاثر ہوکر کہ مصری ہمیں جاسوس سمجھتے تھے بیٹوں کو یہ تجویز بتائی تھی۔چونکہ حضرت یوسفؑ نے پہلی دفعہ ان پر بہت سے ایسے سوال کئے تھے جن سے انہیں شبہ پیدا ہو ا کہ شاید یوسف ہمیں جاسوس سمجھتے ہیں اور وہی باتیں انہوں نے حضرت یعقوبؑ کو بتائیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوبؑ نے ان کے شبہ کی وجہ سے احتیاطاً ہدایت کی کہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍمیں علم سے مراد توکل ہے وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ۔میں علم سے مراد توکل ہے۔جس کا پہلے ذکر ہوچکا ہے اور یہی وہ معرفت اور علم تھا جو ان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملا تھا یعنی انہوں نے تدبیر بھی کرلی مگر توکل پھر بھی خدا پر ہی رکھا۔علیحدہ علیحدہ داخل ہونے کی نصیحت نظر لگ جانے کے خوف سے نہ تھی بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت یعقوبؑ کو نظر لگ جانے کا خوف تھا۔اس تدبیر سے انہوں نے اس کو دور کر لیا (تفسیر ابن کثیر زیر آیت ھٰذا) لیکن یہ معقول نہیں۔ایک بھائی کے بڑھ جانے سے نظر لگ جانے کا خطرہ کس طرح پیدا ہو گیا تھا؟ پہلے بھی تو دس بھائی اکٹھے گئے تھے۔اس وقت کیوں یہ تدبیر نہ کی! پس اصل بات یہی ہے کہ جب مصر سے واپسی پر برادرانِ یوسفؑ نے جاسوسی کے احتمال کو پیش کیا تو حضرت یعقوب نے ان کو مزید احتیاط برتنے کا مشورہ دیا۔حضرت یعقوب نے علیحدہ علیحدہ داخل ہونے کی نصیحت اس لئے کی تا بن یامین حضرت یوسف کو مل سکیں یا جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے انہیں چونکہ الہام سے معلوم ہو گیا تھا کہ وہ حاکم جو غلہ دیتا ہے یوسفؑ ہے انہوںنے الگ الگ ملنے کا حکم دیا تاکہ بن یامین یوسفؑ سے علیحدگی میں مل سکیں۔وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى يُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَيْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّيْۤ اَنَا اور جب وہ یوسف کے حضور حاضر ہوئے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی۔اور( اس سے) کہا (کہ) یقیناً اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۷۰ میں ہی تیرا (مفقود) بھائی ہوں۔پس جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں اس کی وجہ سے (اب) تو غمگین نہ ہو۔حلّ لُغَات۔اٰوٰٓی اِلَیْہِ۔اٰوَیْتُہٗ۔اَنْزَلْتُہٗ اٰوَیْتُہٗ کے معنے ہیں میں نے اسے اپنے پاس اتارا۔اپنے