تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 475

وَ قَالَ يٰبَنِيَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اور اس نے (ان سے) کہا (کہ) اے میرے بیٹو (وہاں) تم (سب) ایک ہی دروازے سے اندر نہ جانا اور اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِيْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ١ؕ ( جب حاکم کے پاس جانا پڑے) الگ الگ دروازوں سے اندر جانا اور میں اللہ (تعالیٰ کی گرفت) سے( بچانے اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ کے لئے) کچھ بھی تمہارے کام نہیں آسکتا۔فیصلہ کرنا( دراصل) اللہ( تعالیٰ) ہی کا کام ہے اسی پر میں نے بھروسہ کیا الْمُتَوَكِّلُوْنَ۰۰۶۸ ہے اور تمام بھروسہ کرنے والوں کواسی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔حلّ لُغَات۔اَلْحُکْمُ اَلْحُکْمُ: حَکَمَ بِالْاَمْرِ حُکْمًا وَحُکُوْمَۃً۔حُکْمٌ۔حَکَمَ یَحْکُمُ کا مصدر ہے اور حَکَمَ کے معنے ہیں قَضٰی اس نے فیصلہ کیا۔وَالْحُکْمُ اَلْقَضَاءُ اور حُکْمٌکے معنی ہیں فیصلہ کرنا۔(اقرب) حَکَمَ۔اَصْلُہٗ مَنَعَ مَنْعًا لِاِصْلَاحٍ۔حَکَمَ کے اصل معنی اصلاح کی خاطر کسی کام سے روکنے کے ہیں اور اسی وجہ سے جانور کی لگام کو حَکَمَۃٌ کہتے ہیں وَالْحُکْمُ بِالشَّیْءِ اَنْ تَقْضِیَ بِاَنَّہٗ کَذَا اَوْ لَیْسَ بِکَذَا سَوَاءٌ اَلْزَمْتَ ذٰلِکَ غَیْرَکَ اَوْلَمْ تُلْزِمْہُ اور حکم کے یہ معنی ہیں کہ کسی امر کے متعلق یہ فیصلہ کیا جائے کہ وہ اس اس طرح ہے یا اس اس طرح نہیں۔خواہ وہ بات دوسرے پر واجب کی جائے یا نہ۔(مفردات) تَوَکَّلَ عَلَی اللہِ تَوَکَّلَ عَلَی اللہِ۔اِسْتَسْلَمَ اِلَیہِ وَاعْتَمَدَ وَوَثِقَ بِہٖ توکل علی اللہ کے معنی ہیں کہ اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردیا اور اسی پر بھروسہ و اعتماد کیا۔(اقرب) تفسیر۔حضرت یعقوبؑ کی اپنے بیٹوں کو علیحدہ علیحدہ داخل ہونے کی نصیحت چونکہ انہوں نے مصر کے حالات نہایت ڈر ڈر کر بیان کئے تھے اور یہ کہا تھا کہ ہمیں وہاں جاسوس سمجھا گیا تھا اس لئے حضرت یعقوبؑ نے یہ نصیحت کی کہ علیحدہ علیحدہ داخل ہونا اکٹھے ایک جتھے کی صورت میں داخل نہ ہونا۔تاکہ لوگوں کو غیر ملکی سمجھ کر شبہ کا موقع نہ ملے مگرا نہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ ہاں اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی آفت مقدر ہے تو میں