تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 474

مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِيْلٌ۰۰۶۷ (خود کسی مصیبت میں) گھر جاؤپس جب انہوں نے اسے اپناپختہ قول دےدیا تو اس نے کہاجو (کچھ) ہم( اس وقت) کہہ رہے ہیں اللہ اس کا نگران ہے۔حلّ لُغَات۔یُحَاطَ بِکُمْ اَنْ یُحَاطَ بِکُمْ۔اُحِیْطَ بِہٖ دَنَا ھَلَاکُہٗ وَفِی الْقُرْاٰنِ اِلَّا اَنْ یُحَاطَ بِکُمْ: اُحِیْطَ بِہٖ کے معنے ہیں ہلاکت کے منہ میں آ گیا۔ہرطرف سے تباہی کے منہ میں گھر گیا۔چنانچہ قرآن کریم میں اِلَّاۤ اَنْ يُّحَاطَ بِكُمْ ان معنوں میں استعمال ہوا ہے۔(اقرب) اَلْمَوْثِقُ وَالْمِیْثَاقُ الْعَہْدُ عہد اقرار۔(اقرب) وَکِیْلٌ۔نگران۔(مزید تشریح کے لئے دیکھو یونس آیت ۱۰۵) تفسیر۔آنحضرتؐ کی بن یامین سے ایک مشابہت اس جگہ پر بن یامین کے ساتھ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مشابہت ہو گئی ہے۔جب مدینہ والے لوگ آپؐ کو لینے کے لئے آئے تو آپؐ کی طرف سے حضرت عباسؓ نے ان سے معاہدہ کیا کہ تم لوگ اپنی جان اور مال سے آپؐ کی حفاظت کرو گے۔انہوں نے یہ اقرار کیا تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ مدینہ تشریف لے گئے(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، امر العقبۃ الثانیۃ)۔بائبل میں لکھا ہے کہ جب حضرت یعقوبؑ نے عہد کا مطالبہ کیا تو روبن نے جو سب لڑکوں سے عمر میں بڑا تھا کہا کہ میرے دو بیٹے ہیں تو ان کو اپنے پاس رکھ لے۔اگر میں بن یامین کو نہ لے آؤں تو ان کو قتل کر دیجیئو۔مگر حضرت یعقوبؑ نے اس کی بات کو رد کر دیا۔اور اس کے کہنے پر بن یامین کو نہ بھیجا۔(پیدائش باب ۴۲ آیت ۳۷) برادران یوسف ؑمیں سے یہودا دینی لحاظ سے بڑا سمجھا جاتا تھا لیکن جب یہودا نے اپنے باپ کے نزدیک آکر قسم کھائی اور سب کی طرف سے معاہدہ کیا تو حضرت یعقوبؑ نے اس کی بات مان لی۔(پیدائش باب ۴۳ آیت ۸تا۱۳) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی لحاظ سے وہی سب سے بڑا سمجھا جاتا تھا۔یہ حوالہ اسی سورۃ کی ایک اگلی آیت کا مضمون سمجھنے میں کارآمد ہوگا۔