تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 473
مانتے ہیں لیکن اہل کتاب کو سمجھانے کے لے ہمارے پاس زائد دلیلیں ہونی چاہئیں۔اختلاف کا فیصلہ میرے نزدیک اس اختلاف کا فیصلہ اس طرح ہوسکتا ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ حضرت یعقوب اور ان کا گھرانہ کس سواری پر عام طور پر سواری کیا کرتا تھا۔جو سواری دوسرے حوالہ جات سے ثابت ہو تاریخی طور پر اس سفر میں بھی اسی کو ترجیح دی جائے گی۔بائبل میں حضرت یعقوبؑ کے ایک اور سفر کا ذکر ہے یعنی جبکہ وہ اپنی بیویوں کو اپنے سسرال کے ہاں سے لے کر واپس آئے ہیں۔اس سفر کے متعلق بائبل میں لکھا ہے: ’’تب یعقوبؑ نے اٹھ کے اپنے بیٹوں اور اپنی جورؤں کو اونٹوں پر بٹھایا۔‘‘ (پیدائش باب ۳۱ آیت ۱۷) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب اور ان کے گھرانے کو اونٹ پر سفر کرنے کی عادت تھی۔پس بائبل کے اس ثبوت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور اس راستہ کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے جس میں اونٹ کا سفر گدھے کے سفر سے زیادہ آرام دہ رہتا ہے ہمیں عقلاً بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یوسفؑ کے بھائیوں نے اونٹوں پر ہی سفر کیا ہوگا۔بائبل اور قرآن مجید کے بیانات میں تطبیق لیکن یہ تشریح اس امر کو فرض کرکے ہے کہ قرآن کریم سے اونٹوں پر سفر ثابت ہے۔جو لوگ اس استدلال کو قوی نہ سمجھتے ہوں وہ یوں اس مشکل کو حل کرسکتے ہیں کہ قرآن مجید کے الفاظ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ اونٹوں پر سوار تھے حِمْلُ بَعِیْرٍ سے اونٹ کے اٹھانے کے قابل وزن مراد ہے۔آگے خواہ وہ اس کو گدھوں پر لادیں اس صورت میں دونوں حوالوں میں کوئی اختلاف نہیں رہتا۔قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اس نے کہا میں اسے تمہارے ساتھ کبھی نہیں بھیجوں گا جب تک تم مجھ سے اللہ (تعالیٰ)کی طرف سے (مقرر شدہ یعنی اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِيْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ يُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ اس کی قسم سے موکدیہ) عہد نہ کرو۔کہ تم اسے ضرور میرے پاس (واپس) لاؤ گےسوائے اس( صورت) کے کہ تم