تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 472

اِلَيْنَا١ۚ وَ نَمِيْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَيْلَ ہماری پونجی ہے اسے (بھی) ہماری طرف واپس کر دیا گیا ہے اور(اگر ہمارا بھائی ہمارے ساتھ جائے گا تو) ہم اپنے بَعِيْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَيْلٌ يَّسِيْرٌ۰۰۶۶ گھر والوں کو خوراک کا سامان لا دیںگے اور اپنے بھائی کی( ہر طرح سے) حفاظت کریں گے اور ایک بار شتر زیادہ لیں گے وہ (غلہ کا) وزن (جو ہم پہلے لائے ہیں) تھوڑا ہے۔حلّ لُغَات۔مَتَاعٌ۔مَتَاعٌ عام ضروریات کی چیزوں کو کہتے ہیں۔جیسے خوراک پوشاک۔گھر کے استعمال کا سامان آلات اور اجناس (اقرب) (مزید تشریح کے لئے دیکھیں یونس آیت۲۴ و ہودآیت ۴) بِضَاعَۃٌ پونجی (دیکھو یوسف آیت۶۳) نَمِیْرُ نَمِیْرُ مَارَفُلَانٌ عَیَالَہٗ۔اَتَاھُمْ بِمِیْرَۃٍ مَارَ کے معنے ہیں اپنے اہل کو غلہ لا دیا۔پس نَمِیْرُ کے معنے ہوئے اپنے اہل کو غلہ لاکر دیں گے۔(اقرب) تفسیر۔بائبل اور قرآن مجیدکے بیان میں اختلاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے علاوہ خریدے ہوئے غلہ کے اپنے بھائیوں کو راستہ کے خرچ کے لئے کچھ زائد غلہ دے دیا تھا۔گو واضح الفاظ میں یہ بات بیان نہیں ہوئی لیکن اونٹ کے بوجھ برابر غلہ لانے کے الفاظ سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اونٹوں پر سفر کیا تھا۔بائبل کا بیان کہ برادران یوسفؑ نے گدھوں پر سفر کیا لیکن بائبل کہتی ہے کہ انہوں نے گدھوں پر سفر کیا تھا۔چنانچہ لکھا ہے ’’اور اس شخص نے ان مردوں کو یوسفؑ کے گھر میں لاکر پانی دیا کہ پاؤں دھوئیں اور ان کے گدھوں کو دانہ گھاس دیا۔‘‘ (پیدائش باب ۴۳ آیت ۲۴)۔قرآن مجید کا بیان کہ برادران یوسفؑ نے اونٹوں پر سفر کیا قرآن مجید میں اور موقع پر بھی جہاں صواع کی تلاش کا ذکر ہے اونٹ کا ہی ذکر آیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِيْرٍ کہصُوَاعَ الْمَلِكِ لانے والے کو ایک اونٹ کے بوجھ برابر غلہ دیا جائے گا۔یہ ایک بہت بڑا اختلاف ہے اور قرآن کریم کی تفسیر کرتے وقت ہمارا فرض ہے کہ ہم ان اختلافات پر بھی جہاں تک ہوسکے روشنی ڈالیں کیونکہ گو ایمانی طور پر تو ہم قرآنی بیان کو مقدم