تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 468
مَا وُزِنَ فَقَدْ کِیْلَ وزن کرنے کا دوسرا نام کیل بھی ہے۔اس لئے ہر تولنے کی چیز کے لئے وزن کی بجائے کیل کا لفظ استعمال ہوسکتا ہے۔(تاج) تفسیر۔بائبل حضرت یوسفؑ کے بھائیوں کو جاسوس قرار دیتی ہے بائبل کہتی ہے کہ حضرت یوسفؑ نے انہیں کہا ’’اور اپنے چھوٹے بھائی کو میرے پاس لے آؤ۔تب میں مانوں گا کہ تم جاسوس نہیں بلکہ سچے ہو۔‘‘ (پیدائش باب ۴۲ آیت ۳۴ )یعنی انہیں جاسوس قرار دیا۔گویا انہیں ڈرایا۔قرآن شریف کا بائبل کے بیان سے اختلاف لیکن اس کے بالمقابل قرآن شریف محبت کا پہلو پیش کرتا ہے یعنی حضرت یوسفؑ نے ان کے ساتھ ملاطفت کا سلوک کیا۔جس سے ان کے دلوں میں آئندہ خود آنے اور بھائی کو لانے کی رغبت پیدا ہو۔ممکن ہے کہ حضرت یوسفؑ نے اپنے بھائیوں کو پہچان کر حضرت یعقوبؑ اور دیگر خاندان کے افراد کے متعلق بہت سوالات کئے ہوں اور اس طرح کرید کرید کر پوچھنے سے ان کے بھائیوں کو یہ شبہ پیدا ہو گیا ہو کہ حضرت یوسفؑ انہیں جاسوس سمجھ رہے ہیں۔ورنہ ایک نبی کی شان سے یہ بہت بعید ہے کہ وہ ان کو پہچانتا ہوا انہیں جاسوس قرار دے۔یہ توا یک قسم کا جھوٹ بن جاتا ہے۔بائبل کی ٹھوکر کی وجہ پس میرے نزدیک بائبل نے بھائیوں کے خیال کو نقل کر دیا ہے اور حقیقت بیان نہیں کی اور یوں بھی بھائی کے نہ لانے کو جاسوسی کا ثبوت قرار دینا بہت بودی اور کچی دلیل ہے اور کوئی عقلمند ایسی بات نہیں کرسکتا۔قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ۰۰۶۲ انہوں نے کہا ہم ضرور اس کے متعلق اس کے باپ کو پھسلانے کی کوشش کریں گے اور ہم یقیناً یقیناً ّ(یہ کام) کر کے رہیں گے۔حلّ لُغَات۔سَنُرَاوِدُ سَنُرَاوِدُ عَنْہُ اَبَاہُ رَاوَدَ سے مضارع متکلّم مع الغیر کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں ہم ضرور اس کے متعلق اس کے باپ کو پھسلانے کی کوشش کریں گے۔مزید تشریح کے لئے دیکھیں سورۃ یوسف آیت۲۴۔تفسیر۔ایک گناہ کے نتیجہ میں دوسرا گناہ پیدا ہوتا ہے ایک گناہ کے نتیجہ میں دوسرا گناہ پیدا ہوتا ہے۔جب برادران یوسف نے گناہ کا طریق اختیار کیا تو خیالات گناہ سے ملوث ہو گئے اور اب ان کا طریق