تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 469

کلام بھی قابل اعتراض ہوگیا وہ کس گستاخی سے کہتے ہیں کہ ہم اس کے باپ کو ورغلا کر اسے لے آئیں گے۔گویا ایک طرف اس کو اپنا باپ نہیں قرار دیتے اور دوسری طرف اسے بے وقوف بنانے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں۔وَ قَالَ لِفِتْيٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِيْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ اور اس نے اپنے غلاموں سے کہہ دیا کہ ان کی پونجی (واپس) ان کے بوروں میں رکھ دو۔شائد جب وہ لوٹ کر اپنے يَعْرِفُوْنَهَاۤ۠ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ۰۰۶۳ گھروالوں کے پاس جائیں تو اس (احسان) کو مانیں (اور) شائد وہ (اسی سبب سے) پھر واپس آئیں۔حلّ لُغَات۔فِتْیَانٌ فِتْیَانٌ جمع فَتًی کی ہے اس کے معنے جوان کے ہیں لیکن جب کسی کی طرف مضاف ہو تو ا س کے معنے بیٹے یا نوکر کے ہوتے ہیں جیسے فَتَی زَیْدٍ زید کا بیٹا یا نوکر۔اَلْبِضَاعَۃُ اَلْبِضَاعَۃُ طَائِفَۃٌ مِنَ الْمَالِ تُعَدُّ لِلتِّجَارَۃِ بِضَاعَۃٌ اس مال کو کہتے ہیں جو تجارت کے لئے تیار کیا جائے۔(اقرب) الرِّحَالُ۔اَلرَّحْلُ۔اَیْضًا۔مَرْکَبٌ لِلْبَعِیْرِ اَصْغَرُ مِنَ الْقَتَبِ۔رِحَالٌ رَحْلٌ کی جمع ہے۔اونٹ کے ہودج کو بھی کہتے ہیں۔یہ قتب نامی ہودج سے چھوٹا ہوتا ہے۔مَاتَسْتَصْحِبُہٗ مِنَ الْاَثَاثِ۔اسی طرح جو سامان مسافر ساتھ لے اسے بھی رحل کہتے ہیں۔وَقَدْ یُطْلَقُ عَلَی الْوِعَاءِ کَالْعِدْلِ وَالْجِرَابِ اور بورے تھیلے اور بیگ وغیرہ کی قسم کی چیزوں کو بھی جن میں سامان سفر بھرا جاتا ہے رحل کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔(اقرب) تفسیر۔حضرت یوسفؑ کا اپنے بھائیوں سے احسان یوسف علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم ماتحت صبر کیا اور اس غیر معمولی رقت کو برداشت کیا جو قدرتاً بھائیوں کو دیکھ کر دل میں پیدا ہوئی تھی لیکن فطرتی محبت نے اس قدر احسان پر ضرور مجبور کر دیا کہ چلتے وقت جو قیمت انہوں نے دی تھی واپس کردی۔اس کے یہ معنے نہیں کہ انہوں نے شاہی مال میں خیانت کی وہ خود وزیر تھے اور ایک قلیل رقم کا اپنی جیب سے ادا کردینا ان کے لئے مشکل نہ تھا۔اصلاح محبت اور خوف کے بین بین سلوک سے ہوتی ہے حضرت یوسف علیہ السلام کے اس سلوک سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اصلاح محبت اور خوف کے بین بین سلوک سے ہوتی ہے پہلے ڈرایا تھا اب روپیہ واپس دے کر دل میں امید بھی پیدا کر دی تاکہ وہ ضرور واپس آئیں۔