تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 447

يٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّيْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُوْنَ۰۰۴۷ اور خشک (بالوں کو دیکھنے) کےمتعلق حکم بتائیے تاکہ میں ان لوگوں کے پاس جاؤں کہ ان کو( بھی تیری صداقت کا) علم ہو جائے۔حلّ لُغَات۔صِدِّیْقٌ۔صِدِّیْقٌ صَدَقَ میں سے اسم فاعل سے مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے معنے ہیں اَلْکَثِیْرُ الصِّدْقِ۔بڑا راست گو۔اَلدَّائِمُ التَّصْدِیْقُ۔اَلْکَامِلُ فِیْہِ۔سچائی کو فوراً مان لینے والا۔اَلَّذِیْ یُصَدِّقُ قَوْلَہُ بِالْعَمَلِ جس کے قول کی اس کے فعل سے تصدیق ہوتی ہو۔(اقرب) تفسیر۔لَعَلّی اَرْجِعُ میں لفظ لَعَلَّ کے لانے کی وجہ فرعون کا ساقی حضرت یوسف علیہ السلام سے خواب بیان کرنے کے بعد کہتا ہے کہ شاید میں ان لوگوں کی طرف لوٹوں۔حالانکہ شاید کا کوئی موقع نہ تھا۔یوسف علیہ السلام اسے قیدخانہ میں نہیں رکھ سکتے تھے۔پس اس جگہ پر لَعَلَّ مخاطب کی طمع کے لئے آیا ہے یعنی اگر میں اس تعبیر کو لے کر ان کی طرف لوٹوں تو انہیں آپ کے کمالات کا علم ہو جائے گا اور آپ کی براء ت ان پر ظاہر ہو جائے گی۔تعبیر دریافت کرنے والے شخص کا اپنی غفلت کے متعلق عذر کا اظہار اس کلام سے اس شخص نے اپنی براء ت بھی کی ہے۔وہ وعدہ کر گیا تھا کہ میں فرعون سے ذکر کروں گا لیکن اس نے وہ وعدہ پورا نہیں کیا۔اب وہ اس فقرہ سے کہ تاکہ وہ جان لیں یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ گویا اس سے پہلے ان سے بات کرنی مناسب نہ تھی کیونکہ کامیابی کی امید نہ تھی اب موقع نکلا ہے کہ انہیں آپ کی براء ت کا قائل کیا جاسکے تو میں فوراً آپ کے پاس آگیا ہوں۔تیرھویں مشابہت آنحضرت ؐ نے بھی سات سال کے قحط کی خبر دی تھی اس واقعہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یوسف علیہ السلام کے ساتھ مشابہت ہے۔جس طرح یوسفؑ کے زمانہ میں سات سال کے قحط کی خبر دی گئی تھی اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اللہ تعالیٰ نے سات سال کے قحط کی خبر دی تھی۔جب مکہ والوں نے آپؐ کو بار بار عذاب لانے کے لئے کہا اور آپؐ پر طرح طرح کے اتہام لگائے تو جیسا کہ ابن مسعود سے صحیحین میں روایت ہے دَعَا عَلَیْہِمْ بِسَنِیْنَ کَسَنِی یُوْسُفَ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مخالفین کے لئے ویسے ہی سالوں کی دعا کی جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں گزرے تھے۔یعنی ویسے ہی شدید قحط کی آپؐ نے دعا کی۔چنانچہ حجاز