تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 448

میں سخت قحط پڑا اور سات سال تک رہا۔یہاں تک کہ بعض لوگ ان ایام میں مردار وغیرہ کھانے لگے اور صحتیں اس قدر بگڑ گئیں کہ آنکھوں کے آگے دھوئیں نظر آنے لگے۔آخر سات سال کی تکلیف کے بعد لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی کہ آپؐ مُضَر یعنی قبائل حجاز کے لئے دعا کریں کہ وہ بالکل تباہ ہو گئے ہیں۔آپؐ نے دعا کی اور آپ کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے بارش کی اور قحط دور ہوا(بخاری کتاب التفسیر سورۃ الدخان )۔قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِيْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ اس نے کہا (کہ) تم سات برس مسلسل جدوجہد سے کاشت (کا کام) کرو گے پس (اس عرصہ میں) جو (کچھ) تم فِيْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ۰۰۴۸ کاٹو اس( سب)کوسواء( اس) تھوڑے سے حصہ کے جو تم کھا لو اس کی بالوں میں ہی رہنے دینا۔حلّ لُغَات۔دَأْبٌ دَأَبَ فِیْ عَمَلِہٖ جَدَّوَتَعِبَ وَاسْتَمَرَّ عَلَیْہِ۔انتہائی حد تک محنت اور کوشش کی اور بلاوقفہ اس پر قائم رہا۔(اقرب) پس دَاَ بًا کے معنی ہوئے متواتر محنت اور مشقت کے ساتھ تم اس کام میں مصروف رہوگے۔ذَرَّ ذَرُوْا فعل امر ہے جس کے معنے ہیں چھوڑ و۔اس مادہ میں سے صرف فعل امر اور فعل مضارع استعمال ہوتا ہے۔فعل ماضی، مصدر اور اسمائے مشتقہ جیسے اسم فاعل وغیرہ نہیں ہوتے۔چنانچہ اقرب الموارد میں ہے ذَرْہُ أی دَعْہُ اسے چھوڑ دے۔وَاَمَاتَتِ الْعَرَبُ مَاضِیَہٗ وَمَصْدَرَہٗ وَاسْمَ الْفَاعِلِ مِنْہُ اور عرب لوگ اس کی ماضی اور مصدر اور اسم فاعل کو استعمال نہیں کرتے بلکہ جب ان مادوں کے استعمال کی ضرورت ہو تو ترک کا لفظ استعمال کرلیتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔تَزْرَعُوْنَ بمعنے فعل امر ہے گو الفاظ یہ ہیں کہ تم ایسا کرو گے مگر مراد یہ ہے کہ تمہیں ایسا کرنا ہوگا تاکہ قحط کے ایام کے لئے غلہ موجود رہے۔اگر ان دنوں میں محنت سے کام نہ لیا اور پھر احتیاط سے غلہ خرچ نہ کیا تو قحط کی تکلیف ناقابل برداشت ہوجائے گی۔حضرت یوسفؑ کا تعبیر کے ساتھ تدبیر بھی بتانا یوسف علیہ السلام نے غلہ کو جمع کرکے محفوظ رکھنے کا طریق بھی ساتھ ہی بتا دیا ہے جو یہ ہے کہ اگر گندم کو اس کی بالوں میں ہی رہنے دیا جاوے تو وہ کیڑا وغیرہ لگنے سے زیادہ