تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 446
زمانہ کے لوگ یا ایک دین کے اور ایک قرن کے لوگ گزر جائیں۔(مفردات) تفسیر۔بچائے جانے والے شخص کا اس خواب کی تعبیر دریافت کرنے کی طرف توجہ دلانا مجھے بھیجو کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص کوئی بڑے سرداروں میں سے نہ تھا اور بادشاہ کے قول کا مخاطب نہ تھا۔جب وہ لوگ اس خواب کی تعبیر نہ کرسکے اور انہوں نے پراگندہ خواب کہہ کر جس میں خیالات کی ملونی ہو گئی ہو اپنا پیچھا چھڑایا تو اس شخص کو اپنا اور اپنے ساتھی کا خواب یاد آیا اور خیال گزرا کہ ہمارے خواب بھی بظاہر پراگندہ معلوم دیتے تھے لیکن یوسف علیہ السلام نے ان کی معقول تعبیر کی اور اسی طرح ہو گیا۔ممکن ہے وہ ان خوابوں کی بھی تعبیر کرسکیں اور امراء دربار سے اجازت چاہی کہ اگر مجھے جانے کی آپ لوگ اجازت دیں تو میں جاکر اس خواب کی تعبیر پوچھ آتا ہوں۔پرانے زمانہ میں بادشاہوں کے درباری زیادہ تر کاہن اور مذہبی لوگ ہی ہوتے تھے اس امر پر تعجب نہیں کرنا چاہیے کہ بادشاہ امراء دربار سے تعبیر کیوں پوچھتا ہے؟ کیونکہ پرانے زمانہ میںکاہنوں اور مذہبی آدمیوں کا خاص زور ہوتا تھا اور انہی میں سے عام طور پر امراء دربار مقرر کئے جاتے تھے۔حضرت یوسف ؑکے اور آنحضرت ؐ کے طریق کامیابی میں فرق اس آیت کے متعلق یہ لطیف امر بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ کامیابی تو یوسف علیہ السلام کو بھی ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مگر طریق کامیابی دونوں کے الگ الگ تھے۔یوسف علیہ السلام کو دوسروں کے ذریعہ سے ترقی دلانی تھی اس لئے ان کے لئے دوسروں کو ہی خواب دکھائی۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چونکہ بلاواسطہ ترقیات ملنی تھیں اس لئے ان کی ترقی کی خبر بھی براہ راست انہی کو ملتی رہی اور اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں پسند کیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ترقی کی آخری منازل کسی اور شخص کی مدد سے طے ہوں۔يُوْسُفُ اَيُّهَا الصِّدِّيْقُ اَفْتِنَا فِيْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ (اور اس نے یوسفؑ سے جا کر کہاکہ) اے یوسف! (ہاں) اے راستباز ! ہمیں ان سات گائیوں (کو رؤیا میں يَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ دیکھنے) کے متعلقجنہیں سات دبلی (گائیں) کھا جائیں اور (نیز) سات سبز بالوں اور( ان کے مقابل پر) چند