تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 445
دوسرے معنے ا س کے یہ ہیں کہ حلم یعنی برے خوابوں کا موجب شیطان ہے اور رؤیا یعنی اچھے خوابوں کا موجب اللہ تعالیٰ ہے۔یعنی عذاب کا سبب شیطانی تعلق ہوتا ہے اور فضل و برکت کا سبب رحمانی تعلق ہوتا ہے۔گویا یہ بتایا ہے کہ اگر بری خوابیں اور ڈراؤنے منظر دیکھو تو سمجھ لو کہ شیطان سے تعلق پیدا ہو گیا ہے اور اپنی اصلاح کرو۔اور اگر اچھے منظر دکھائے جائیں تو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ خوش ہے اور فضل کرنا چاہتا ہے۔پس نیکی میں اور ترقی کرو۔تفسیر۔وہی خواب قابل تعبیر ہوتی ہے جس میں جھوٹ کی ملونی نہ ہو قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ۔انہوں نے کہا کہ یہ خوابیں بری بھی ہیں اور مخلوط بھی۔یعنی سچ اور جھوٹ ملا ہوا ہے۔دماغی دخل سے پاک نہیں ہیں۔اور پوری طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں کہی جاسکتیں اس لئے ایسی خوابوں کی تعبیر نہیں کی جاسکتی۔کیونکہ جب تک جھوٹ اور سچ الگ الگ نہ ہو تعبیر کے متعلق حکم نہیں لگایا جاسکتا۔یہ جو انہوں نے کہا ہے کہ ہم احلام کی تعبیر نہیں جانتے اس کا یہ مطلب نہیں کہ بری خوابوں کی تعبیر ہم نہیں کرسکتے بلکہ اَحْلَام کے اوپر جو ال ہے وہ عہد ذہنی کا ہے یعنی اس سے اشارہ اضغاث احلام کی طرف ہے اور مراد یہ ہے کہ جس قسم کی پراگندہ خوابوں کا ذکر ہم پہلے کرچکے ہیں ویسی خوابوں کی تعبیر ہم نہیں کرسکتے نہ یہ کہ خالی ڈراؤنی خواب کی تعبیر ہم نہیں کرسکتے۔وَ قَالَ الَّذِيْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ اور ان (دو قیدیوں) میں سے اس نے جس نے مخلصی پائی تھی اور( جس نے) ایک عرصہ کے بعد (یوسفؑ کے ساتھ بِتَاْوِيْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ۰۰۴۶ جو اس کامعاملہ گزرا تھا اسے )یاد کیا کہا (کہ )میں تمہیں اس کی حقیقت سے آگاہ کروں گا پس تم (اس کی حقیقت دریافت کرنے کے لئے) مجھے بھیجو۔حلّ لُغَات۔اِدَّکَرَ۔اِدَّکَرَ ذَکَرَ میں سے باب افتعال کا فعل ماضی ہے۔اِدَّکَرَہٗ ذَکَرَہٗ۔اس نے یاد کیا۔اسے یاد آیا۔(اقرب) اُمَّۃٌ الْاُمَّۃُ الْحِیْنُ۔وقت عرصہ۔(اقرب) وَقَوْلُہٗ تَعَالٰی وَادَّکَرَ بَعْدَ اُمّۃٍ اَیْ حِیْنٍ کچھ عرصہ کے بعد۔وَقَدْ قُرِیَٔ بَعْدَ أَمَّۃٍ اَیْ بَعْدَ نِسْیَانٍ اور ایک قِرَاءَ ۃ میں أمَّہٌ بھی آیا ہے جس کے معنے ہیں بھول جانے کے بعد۔وَحَقِیْقَۃُ ذٰلِکَ بَعْدَ انْقِضَاءِ اَھْلِ عَصْرٍ اَوْاَھْلِ دِیْنٍ اور اس کے اصل معنے عرصہ دراز کے ہیں۔جس میں ایک