تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 441
وَدَکَہَا لِیُؤَتَدَمَ بِہٖ۔ہڈیوں کو گوشت سے الگ جمع کرکے اور انہیں پکا کر ان کا گودا سالن کے طور پر کھانے کے لئے نکالا۔وَالصَّلِیْبُ اَلْوَدَکُ۔اور صلیب کے معنے چربی اور گودے کے ہیں۔وَفِی الصِّحَاحِ وَدَکُ الْعِظَامِ اور صحاح میں ہے کہ صلیب ہڈیوں کے گودے کو کہتے ہیں۔وَبِہٖ سُمِّیَ الْمَصْلُوبُ اور اسی وجہ سے مصلوب کو مصلوب کہتے ہیں۔لِمَایَسِیْلُ مِنْ وَدَکِہٖ کیونکہ اس کی چربی اور گودا نکل کر بہتا ہے وَالصَّلْبُ ھٰذِہِ الْقِتْلَۃُ الْمَعْرُوْفَۃُ اور اسی طریق پر قتل کرنے اور ہڈیوں کا گودا نکالنے کو صلب کہتے ہیں۔مُشْتَقٌّ مِنْ ذٰلکَ۔یہ لفظ اسی لفظ صلیب (چربی اور ہڈیوں کا گودا) سے ماخوذ ہے۔لِاَنَّ وَدَکُہٗ وَصَدِیْدَہٗ یَسِیْلُ کیونکہ مصلوب کی چربی اس کی ہڈیوں کا گودا اور اس کی پیپ نکل کر بہتی ہے۔(تاج العروس) تفسیر۔خواب کے پورا ہونے میں اس کی تعبیر کا بھی بہت دخل ہوتا ہے اس جگہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام تو تعبیر کرنے والے تھے۔پھرا نہوں نے یہ کیوں کہا کہ فیصلہ کر دیا گیا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ خواب کی تعبیر کا بھی اس کے پورا ہونے سے بہت کچھ تعلق ہوتا ہے۔جب تک خواب سنائی نہیں جاتی اسے زیادہ اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔لیکن جب سنائی جاتی ہے اور اس کی تعبیر ہوجاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کو اس کی غیرت ہوجاتی ہے اور وہ حتی الوسع ضرور پوری کی جاتی ہے۔اسی وجہ سے صوفیاء نے لکھا ہے بلکہ احادیث میں بھی اس طرف اشارہ ہے کہ بری خواب سنانی نہیں چاہیے(بخاری کتاب التعبیر باب اذارأی ما یکرہ ولا یخبر بھا ولا یذکر بھا)۔پس جب ان لوگوں نے خوابیں حضرت یوسف علیہ السلام کو سنا دیں اور انہوں نے تعبیر کر دی تو ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ اب یہ خوابیں پوری ہوکر رہیں گی۔وَ قَالَ لِلَّذِيْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِيْ عِنْدَ رَبِّكَ١ٞ اور ان میں سے اس سے جس کے متعلق اس نے یہ سمجھا تھا کہ وہ مخلصی پا جانے والا ہے اس نے کہا( کہ) اپنے آقا فَاَنْسٰىهُ الشَّيْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِي السِّجْنِ بِضْعَ کےپاس میرا (بھی) ذکر کرنا۔پھر شیطان نے اس( آزاد شدہ قیدی) کو اس کے آقا سے (یہ) ذکر کرنا فراموش