تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 442

سِنِيْنَؕؒ۰۰۴۳ کرا دیا۔اور( اس کی اس غفلت کی وجہ سے) وہ (یعنے یوسفؑ) کئی سال قید خانہ میں (پڑا) رہا۔حلّ لُغَات۔بِضْعٌ۔اَلْبِضْعُ مَابَیْنَ الثَّلَاثِ اِلَی التِّسْعِ۔تین سے لے کر نو تک کو بِضْعٌ کہتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔ذِکْرَ رَبِّہٖ کے معنی۔(اپنے آقا کے پاس ذکر کرنا) حضرت یوسف علیہ السلام نے اسے جس کی نسبت انہیں یقین تھا کہ بچ جائے گا یہ کہاکہ بادشاہ کے پاس میرا ذکر بھی کرنا کہ فلاں شخص کو قید میں بلاوجہ ڈالا ہوا ہے۔لیکن اس شخص کو اپنے برے مشاغل یعنی شراب پلانے کے کام میں یہ خیال نہ رہا کہ ذکر کرتا۔بعض مفسرین نے اس جگہ یہ معنے کئے ہیں کہ شیطان نے یوسف علیہ السلام کو اپنے رب کا ذکر بھلا دیا۔یعنی انشاء اللہ کہنا یاد نہ رہا حالانکہ یہ موقع انشاء اللہ کہنے کا تھا ہی نہیں۔ا س آیت میں جب رب کا لفظ بادشاہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ یوسف علیہ السلام کو خدا تعالیٰ سے غافل ثابت کیا جاتا۔اس کے سیدھے معنے یہ ہیں کہ اس شخص کو اپنے بادشاہ سے یوسف کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا۔یعنی اپنے شیطانی کاموں میں پڑ کر یوسف علیہ السلام کی صحبت کا نیک اثر جاتا رہا۔اور یوسفؑ کا خیال اسے نہ آیا اور بادشاہ کے پاس اس کا ذکر نہ کرسکا۔ایسے صاف معنوں کی موجودگی میں کہ جن سے یوسف علیہ السلام کی برأت پر بھی کوئی الزام نہیں لگتا ہمیں دوسرے معنے کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ظَنَّ کا لفظ اختیار کرنے کی وجہ ظَنَّ کا لفظ اس لئے کہا کہ غیر نبی کی خواب کتنی بھی یقینی کیوں نہ ہو شبہ سے خالی نہیں ہوسکتی اور اس کو ظن سے ہی بیان کیا جاسکتا ہے۔صرف نبی ہی کی یہ شان ہے کہ اس کے الہام پر قسم کھائی جاسکتی ہے کہ وہ سچا ہے اور کسی کے الہام یا خواب کو یہ شرف حاصل نہیں اور یہ بھی نبی اور غیر نبی کے الہام میں ایک فرق ہے۔