تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 440

کرسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا مذہب اپنے ثبوت کے لئے انسانی اور خالص عقلی دلائل کا محتاج ہو۔جو چیز آسمان سے آئے اس کے لئے آسمانی دلیل کی بھی ضرورت ہے۔دین وہی سچا ہے جو دنیا و آخرت کی ضرورتوں کو پورا کرے دِیْنِ قَیِّم کہہ کر بتایا ہے کہ دین وہی سچا ہوسکتا ہے جو دنیا اور آخرت کی ضرورتوں کو پورا کرے اور ایسی تعلیم دے جس سے انسان کی روحانی اور جسمانی دونوں حالتیں درست ہوں۔دین وہی سچا ہے جو شرک سے بچائے اور اس طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ ایسا دین وہی ہوسکتا ہے جو شرک سے لوگوں کو بچائے۔یہ ایک زبردست صداقت ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ شرک انسانی ترقی کے راستہ میں روک ہے۔بھلا جو قوم عناصر کو خدا سمجھے گی وہ ان کو چیر پھاڑ کر اپنی خدمت میں کب لگائے گی۔قوانین قدرت سے تو وہی قوم فائدہ اٹھائے گی جو سب کائنات کو خدا کی مخلوق اور اپنی خدمت کے لئے پیدا کی ہوئی چیز سمجھے گی۔يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَيَسْقِيْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا اے( میرے) قید خانہ کے دونوں ساتھیو(اب اپنی اپنی خواب کی تعبیر سنو) تم میں سے ایک تو اپنے آقا کو شراب الْاٰخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّيْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِيَ الْاَمْرُ پلایاکرے گااور دوسرے کو سولی دے کر مارا جائے گا۔پھر پرندے اس کے سر پر سے (گوشت وغیرہ) کھائیں گے الَّذِيْ فِيْهِ تَسْتَفْتِيٰنِؕ۰۰۴۲ ( لو) جس امر کے متعلق تم پوچھ رہے ہو اس کا فیصلہ کر دیا گیاہے۔حلّ لُغَا ت۔صَلَبَ صَلَبَہٗ۔اَیْ اَلْقَاتِلُ کَضَرَبَہٗ صَلْبًا جَعَلَہٗ مَصْلُوْبًا۔اسے مصلوب کر دیا۔وَفِی لِسَانِ الْعَرَبِ وَالصَّلْبُ ھٰذِہِ الْقِتْلَۃُ الْمَعْرُوْفَۃُ اور لسان العرب میں ہے کہ صلب کے معنے صلیب کی موت سے مارنے اور قتل کردینے کے ہیں۔وَاَصْلُہٗ مِنَ الصَّلِیْبِ وَھُوَ الْوَدَکُ۔اور اسی کا ماخذ صلیب ہے۔جس کے معنے چربی کے اور ہڈیوں کے گودے کے ہیں۔صَلَبَ اللَّحْمَ شَوَاہُ فَأَسَالَہٗ اَیْ اَلْوَدَکَ مِنْہُ گوشت کو سیخوں وغیرہ پر بھونا۔جس کی وجہ سے اس کی چربی نیچے گرتی رہی۔صَلَبَ العِظَامَ جَمَعَہَا وَطَبَخَہَا وَاسْتَخْرَجَ