تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 439

اس قید کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی صفات حسنہ پر اس قسم کا زور دینا حضرت یوسف علیہ السلام کے کمالات باطنی کا مظہر ہے اور ایمان کو تازہ کرتا ہے۔مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّيْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ تم اسے چھوڑ کر سوائے چند( فرضی) ناموں کے جو (خود) تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے بنا رکھے ہیں (اور) اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ جن کی بابت اللہ (تعالیٰ) نے (تمہاری تائید میں) کوئی بھی (تو) حجت نہیں اتاری۔(کسی کی) عبادت نہیں کرتے اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّيْنُ (یاد رکھو) فیصلہ کرنا اللہ (تعالیٰ) کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں ہے( اور) اس نے یہ حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی الْقَيِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۰۰۴۱ کی عبادت نہ کرو۔یہی درست مذہب ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں۔حلّ لُغَات۔اَلْقَیِّمُ۔دِیْنًاقَـیِّـمًا اَیْ ثَابِتًا مُقَوِّمًا لِاُمُوْرِ مَعَاشِہِمْ وَمَعادِھِمْ۔دِیْنٌ قَیِّمٌ ثابت اور قائم رہنے والے اور دنیا اور آخرت کے امور کو درست کرنے والے دین کو کہتے ہیں۔(مفردات) اَلْقَیِّمُ عَلَی الْاَمْرِ مُتَوَلِّیْہِ۔جو کسی کا متولی ہو۔اَلْقَیِّمَۃُ الدِّیَانَۃُ الْمُسْتَقِیْمَۃُ۔صحیح راستہ۔درست مذہب (اقرب) تفسیر۔جو امور منجانب اللہ ہوں ان کے ساتھ دلیل اور غلبہ کا ہونا ضروری ہے یوسف علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جن چیزوں کا وجود صرف اس امر پر مبنی ہو کہ تم نے ایک نام تجویز کرلیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی دلیل اور غلبہ ان کے ساتھ نہیں ہے تم ان کی عبادت کرکے کیا لو گے اور ایسی چیزوں کی عبادت کیا نفع پہنچا سکتی ہے؟ اس آیت میں اس اصل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جو امور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں ان کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی دلیل اور غلبہ بھی ہونا چاہیے۔مختلف مذاہب یونہی آپس میں لڑتے رہتے ہیں اور کوئی فیصلہ کی اس یقینی راہ کی طرف توجہ نہیں کرتا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مدعی کو کیا دلیل ملی ہے۔عقل کب اس امر کو تسلیم