تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 434

لَیَسْجُنُنَّ مفرد کی تاویل میں ہوکر اس کا فاعل ہو اور اس کی نظیریں بھی بہت پائی جاتی ہیں۔تفسیر۔یہ قید دعا کے نتیجہ میں نہیں تھی یہ قید یوسف علیہ السلام کی دعا کے نتیجہ میں نہ تھی کیونکہ قید کی دعا تو درحقیقت اصل علاج نہ تھا۔خدا تعالیٰ نے پہلی آیت میں بتلایا ہے کہ خدا تعالیٰ نے یوسف کی دعا قبول کرکے اس فریب کو ہٹا دیا جو اس کے خلاف کیا جاتا تھا۔اس کے بعد پھر فرماتا ہے کہ پھر ان لوگوں کی یہ رائے ہوئی کہ اسے قید کردیں۔پس جب اللہ تعالیٰ نے اس قید کو دعا کی قبولیت میں شامل نہیں کیا تو ہم کیوں کریں۔یوسف علیہ السلام نے بے شک قید کی دعا کی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت کو اور اچھے ذریعہ سے ٹلا دیا اور اس کی وجہ سے قید نہیں کرایا ہاں بعد میں قید کا معاملہ بعض اور اسباب سے پیدا ہوا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب انہوں نے بعض نشانات دیکھے تو قید کرنے کا فیصلہ کرلیا۔اَلاٰیَاتُ سے مراد میرے خیال میں نشانات سے مراد عزیز کی بیوی کی پھیلتی ہوئی بدنامی ہوگی۔آخر انہوں نے مناسب سمجھا کہ یوسف کو قید کر دیں تاکہ عزیز کی بیوی کی کھوئی ہوئی عزت قائم ہو جائے اور لوگ اس شبہ میں پڑ جائیں کہ شاید یوسفؑ کا ہی قصور ہوگا۔یوسف کو شروع ہی میں قید نہیں کر دیا گیا تھا بائبل کا بیان ہے کہ حضرت یوسفؑ کو ابتدائی جھگڑے کے وقت ہی عزیز نے قید کر دیا تھا(پیدائش باب ۳۹ آیت ۱۹ ،۲۰) لیکن قرآن کریم اس کے خلاف قید کو بعد کے حالات کا نتیجہ قرار دیتا ہے مگر جیسا کہ میں اوپر بتا چکا ہوں بائبل کے ہی حوالہ جات سے بائبل کے بیان کی تردید ہو جاتی ہے۔مثلاً پیدائش باب۴۰ (آیت ۲تا۴)میں لکھا ہے کہ وہ دو آدمی جن پر بادشاہ کا عتاب نازل ہوا تھا اور ان کو قید کی سزا دی گئی تھی ان کو اس فوطی فار نے جو جلوداروں کا سردار تھا یوسف کے سپرد کر دیا۔جس سے صاف معلوم ہوا کہ وہ یوسف علیہ السلام کو سچا سمجھتا تھا اور انہیں قید میں اس واقعہ کی وجہ سے نہیں بلکہ بعد کے دوسرے حالات کی وجہ سے مصلحتاً ڈالا تھا۔وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَيٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّيْۤ اَرٰىنِيْۤ اور قید خانہ میں اس کے ساتھ دو اور جوان (بھی) داخل ہو ئے جن میں سے ایک نے (تو اس سے یہ) کہا (کہ) میں اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّيْۤ اَرٰىنِيْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ (خواب میں)اپنے آپ کو (اس حالت میں) دیکھتا ہوں کہ میں انگور نچوڑ رہا ہوں۔اور دوسرے نے کہا( کہ) میں