تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 433

بعد گھر بیٹھے فیصلہ کر دیتے ہیں کہ جھک تو وہ گیا تھا لیکن پھر ہوشیار ہو گیا۔یوسفؑ کے خلاف آنحضرت ؐ کا ہمیشہ خیر ہی کو طلب کرنا اس وقت تک یوسف علیہ السلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی مشابہتیں بیان ہوئی ہیں۔اس آیت کے مضمون سے دونوں کی طبیعت کا اختلاف بھی معلوم ہوتا ہے اور اس میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ہی ظاہر ہوتی ہے۔یوسفؑ ایک مصیبت سے بچنے کے لئے دوسری مصیبت مانگتا ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق یہ تھا کہ خدا تعالیٰ سے ہمیشہ خیر مانگتے کیونکہ وہ خیر کے ذریعہ سے بھی مصائب کو دور کرسکتا ہے۔فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ پس اس کے رب نے اس کی دعا سن لی اور ان کی تدبیر (کے بد نتیجہ )کو اس سے ہٹا دیا۔یقیناً وہی ہے جو بہت ہی السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۰۰۳۵ (دعائیں)سننے والا (اور لوگوں کے حالات کو )خوب جاننے والا ہے۔حلّ لُغَا ت۔اِسْتِیْجَابٌ اِسْتَجَابَ اللہُ فُلَانًا وَلَہٗ وَمِنْہُ قَبِلَ دُعَاءَ ہُ وَ قَضٰی حاجَتَہٗ اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا قبول کرکے اس کی حاجت پوری کردی۔(اقرب) تفسیر۔یعنی انہیں اس کی طرف سے مایوس کر دیا۔اور یوسفؑ کے دل کو پہلے سے بھی زیادہ تقویّت بخشی۔ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰيٰتِ لَيَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى پھر ان (لوگوں) کی (ان) آثار کو دیکھنے کے بعد( یہ) رائے ہو گئی کہ( بدنامی کو دور کرنے کے لئے) وہ اسے حِيْنٍؒ۰۰۳۶ (کم سے کم) کچھ وقت کے لئے ضرور قید کردیں۔حلّ لُغَات۔بَدَا بَدَالَہٗ فِی الْاَمْرِ نَشَأَ لَہٗ فِیْہِ رَأْیٌ۔اسے ایک نئی بات سوجھی۔(اقرب) پس اس محاورہ کے مطابق بدَا لَھُمْ میں بَدَا کا فاعل ضمیر مستتر ہے جس کا مرجع رَأْیٌ مقدر ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ جملہ