تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 435

رَاْسِيْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّيْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِيْلِهٖ١ۚ اِنَّا (خواب میں)اپنے آپ کو( اس حالت میں) دیکھتا ہوں کہ میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں جن میں؎ نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ۰۰۳۷ سے پرندے کھا رہے ہیں (اوران دونوں نے اس سے کہا کہ) آپ ہمیں اس کی حقیقت سے آگا کریں ہم آپ کو یقیناًنیکوکاروں میں سے سمجھتے ہیں۔حلّ لُغَات۔عَصَرَ عَصَرَ الْعِنَبَ وَنَحْوَہٗ یَعْصِرُ عَصْرًا۔اِسْتَخْرَجَ مَاءَ ہٗ اسے نچوڑ کر اس کا رس نکالا۔الثَّوْبَ اسْتَخْرَجَ مَاءَ ہٗ بِلَیِّہٖ نچوڑ کر پانی نکالا۔الدُّمَّلَ۔اِسْتَخْرَجَ مِدَّتَہُ۔دبا کر مادہ فاسدہ نکالا۔الرِّکْضُ الْفَرَسَ۔عَرَّقَہٗ۔پسینہ پسینہ کر دیا۔اَلشَّیْءَ عَنْہُ: مَنَعَہٗ۔اس سے روکا۔فُلَانًا اَعْطَاہُ العَطِیَّۃَ۔عطیہ دیا۔حَبَسَہُ بند کر رکھا۔فُلَانٌ عَاصِرٌ مُمْسِکٌ اَوْقَلِیْلُ الْخَیْرِ۔بخیل کنجوس اَلْعَصْرُالْعَطِیَّۃُ۔عطیہ۔(اقرب) پس اَعْصِرُ خَمْرًا کے معنی ہوئے میں انگور نچوڑ کر شراب بناتا ہوں۔شراب کا سٹور رکھتا ہوں۔شراب دیتا ہوں۔تفسیر۔دَخَلَ مَعَہٗ کا مطلب مَعَہٗ کے لفظ کے یہ معنے لینے ضروری نہیں کہ جس روز حضرت یوسفؑ قیدخانہ میں داخل ہوئے تھے اسی دن اور اسی وقت وہ بھی داخل ہوئے ہوں۔ہاں! یہ ضروری ہے کہ وہ یوسف علیہ السلام کے ساتھ قیدخانہ میں رکھے گئے ہوں اور یہ بات بائبل سے ثابت ہے کہ ’’قیدخانہ کے داروغہ نے سب قیدیوں کو جو قید میں تھے یوسف کے ہاتھ میں سونپا۔‘‘ (دیکھو پیدائش باب ۳۹ آیت ۲۲) اور پھر لکھا ہے کہ ’’اور اس نے ان( دونوں سرداروں) کو نگہبانی کے لئے جلوداروں کے سردار کے گھر میں اسی جگہ جہاں یوسف بند تھا قیدخانہ میں ڈالا‘‘ (پیدائش باب۴۰آیت ۳) پیدائش باب ۴۰ میں یہ خواب ذرا تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہے مگر مضمون ایک ہی ہے۔حضرت یوسف قید خانہ والوں کی نظر میں ان کے خواب کی تعبیر دریافت کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یوسف علیہ السلام کا قیدخانہ میں ایسا رویہ تھا کہ سب لوگ ان کی بزرگی کے قائل ہو گئے تھے۔ورنہ معمولی نیکی کی وجہ سے خوابوں کی تعبیر لوگ دریافت نہیں کرتے۔پھر یہ قیدی تو صاف لفظوں میں کہتے ہیں کہ ہم تجھے اعلیٰ درجہ کے نیکوں خبر اسم جنس ہے اور گو اس کی طرف ضمیر مِنْہُ میں مفرد آئی ہے مگر اردو میں اس کے معنے جمع کرنے ضروری ہیں ورنہ ترجمہ درست نہیں رہ سکتا اس لئے مِنْہُ کا ترجمہ ’’جن میں‘‘ کیا گیا ہے۔