تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 432

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَيَّ مِمَّا يَدْعُوْنَنِيْۤ اِلَيْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ (یہ سن کر) اس نے (دعا کرتے ہوئے )کہا (کہ) اے میرے رب جس بات کی طرف وہ مجھے بلاتی ہیں اس کی عَنِّيْ كَيْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَيْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِيْنَ۰۰۳۴ نسبت قید خانہ (میں جانا) مجھے زیادہ پسند ہے اور اگر ان کی تدبیر (کے بد نتیجہ) کو تو مجھ سے نہیں ہٹائے گا تو میں ان کی طرف جھک جاؤں گا۔اور جاہلوں میں سے ہو جاؤں گا۔حلّ لُغَات۔اَحَبُّ اَحَبُّ اسم تفضیل کا صیغہ ہے مگر اس کے معنے زیادہ پیارے اور بہت محبوب کے نہیں بلکہ کم مکروہ اور کم مبغوض کا مفہوم مراد ہے۔گویا کم بغض کو مجازاً محبت سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ حب اور بغض دو متقابل چیزیں ہیں جن میں سے کسی ایک سے دوری اس کے مقابل کی چیز سے قرب کا موجب ہوجاتی ہے۔صَبَا صَبَا یَصْبُوْا صَبْوًا وَصُبُوًّا وَصِبًّا وَصَبَاءً مَالَ اِلَی الصَّبْوَۃِ۔جوانی کے جذبات کی طرف جھک گیا۔وَمِنْہُ ’’ اَنّ نَفْسَہُ لَتَصْبُوْا اِلَی الْخَیْرِ‘‘۔وہ نیکی کے کاموں کی طرف بہت میلان رکھتا اور جھکا رہتا ہے۔وَھُوَ یَصْبُوْ اِلٰی مَعَالِی الْاُمُوْرِ۔وہ اعلیٰ اور موجب شرف امور کی طرف مائل رہتا ہے۔صَبَا اِلَیْہِ صَبْوَۃً وَصُبْوَۃً وصُبُوًّا حَنَّ اِلَیْہِ۔اس کا مشتاق ہوا۔(اقرب) جَہْلٌ اَلْجَہْلُ عَلٰی ثَلَاثَۃِ اَضْرُبٍ۔جہل کی تین قسمیں ہیں۔اَلاَوَّلُ خُلُوُّا النَّفْسِ مِنَ الْعِلْمِ۔ناواقف اور بے خبر ہونا۔اَلثَّانِیْ اِعْتِقَادُ الشَّیْءِ بِخِلَافِ مَاھُوَ عَلَیْہِ کسی امر کے متعلق غلط خیال پر قائم ہونا۔اَلثَّالِثُ فِعْلُ الشَّیْ ءِ بِخِلَافِ مَاحَقُّہٗ اَنْ یَّفْعَلَ عملی غلطی کرنا۔ا ور جس طرح کرنا چاہیے اس کے برعکس کام کرنا۔(مفردات) تفسیر۔جس طرح پچھلی آیت سے عزیز کی بیوی کے منہ سے یوسف علیہ السلام کی براء ۃ کرائی گئی ہے یہاں خود حضرت یوسف علیہ السلام کے منہ سے ان کی براء ۃ کرائی گئی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اے خدا اگر تو ان کے فریب کو مجھ سے نہیں پھرائے گا تو میں ان کی طرف جھک جاؤں گا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ فعل بدی تو الگ رہا اب تک وہ ان کی طرف جھکے بھی نہ تھے۔تعجب ہے کہ عورت بھی کہتی ہے کہ یوسف نہیں جھکا یوسف بھی کہتا ہے کہ میں نہیں جھکا دوسری دیکھنے والی عورتیں کہتی ہیں کہ اس سے بدی کا امکان بھی نہ تھا۔مگر ہمارے مفسرین ہزاروں سال