تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 395
انہوں نے اسے ڈانٹا اور اس سے نفرت کرنے لگے اور کینہ کرنے لگے۔اب کیا عقل تسلیم کرسکتی ہے کہ دوسری دفعہ جب انہوں نے ویسی ہی خواب دیکھی تو باپ کو سنانے سے پہلے اپنے بھائیوں سے کہی ہوگی۔عقل یہی کہتی ہے کہ اس دفعہ پہلے سلوک سے ڈر کر انہوں نے بھائیوں سے خواب نہیں کہی ہوگی بلکہ والد سے کہی ہوگی۔پس قرآن کریم کا بیان خود بائبل کے دوسرے حوالہ جات کو مدنظر رکھتے ہوئے زیادہ معقول اور قابل قبول ہے۔بھائیوں کو خواب سنانے سے روکنے کی وجہ یہ جو قرآن کریم میں آتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے بھائیوں کو خواب سنانے سے منع کیا اس کی وجہ قرآن کریم نے خود ہی بتادی ہے اور وہ یہ کہ انہیں رشک پیدا ہوگا کہ یہ لڑکا بڑا ہونے والا ہے اور غصہ میں وہ یہ نہ سوچیں گے کہ خواب دیکھنا انسان کے اختیار میں نہیں ہے اور وہ محض اس وجہ سے کہ اس کے بڑا ہونے کی بشارت اسے ملی ہے اسے اپنے راستہ سے ہٹانے کی کوشش کریں گے۔چنانچہ بائبل بھی اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ یوسفؑ کے بھائی اس وجہ سے اس سے ناراض تھے کہ یہ خوابیں دیکھتا ہے۔آنحضرتؐ اور حضرت یوسفؑ کی تیسری مماثلت اس آیت میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت یوسفؑ کی ایک مشابہت بیان کی گئی ہے۔کیونکہ جس طرح حضرت یوسفؑ کو خواب سنانے پر حضرت یعقوبؑ نے بتایا کہ اس رؤیا کو جب تیرے بھائی سنیں گے تو تیری مخالفت کریں گے۔اسی طرح جب ورقہ بن نوفل کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب سنائی تو انہوں نے کہا کہ یَالَیْتَنِیْ فِیْہَا جَذَعًا لَیْتَنِی أَکُوْنُ حَیًّا اِذْیُخْرِجُکَ قَوْمُکَ کہ کاش میں اس وقت مضبوط جوان ہوتا جب تیری قوم تجھے نکالے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پوچھنے پر کہ کیا میری قوم مجھے نکال دے گی انہوں نے کہا کہ اس قسم کا کلام جب بھی کسی نے اپنی قوم کو سنایا ہے اس سے دشمنی کی گئی ہے۔چنانچہ ان کے الفاظ یہ ہیں۔لَمْ یَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمِثْلِ مَاجِئْتَ بِہٖ اِلَّاعُوْدِیَ۔(صحیح بخاری کتاب بد ء الوحی باب کیف کان بدء الوحی۔۔۔۔) وَ كَذٰلِكَ يَجْتَبِيْكَ رَبُّكَ وَ يُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِيْلِ اور( جیسا کہ تو نے دیکھا ہے) اسی طرح تیرا رب تجھے برگزیدہ کرے گا۔اور( الٰہی) باتوں الْاَحَادِيْثِ وَ يُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ يَعْقُوْبَ كَمَاۤ کی حقیقت بیان کر کے تجھے علم بخشے گا اور تجھ پر اور یعقوب کی تمام ( حقیقی) آل پر (اسی طرح) اپنے انعام