تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 394

طوفان کے وقت اپنے بیٹے سے کہا يٰبُنَيَّ ارْكَبْ مَّعَنَا۔( ہود:۴۳) اسی طرح سورۃ لقمان میں لقمان کا قول ہے يٰبُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ(لقمان:۱۴) کَادَ کَادَہٗ یَکِیْدُہٗ کَیْدًا خَدَعَہُ وَمَکَرَبِہٖ اسے دھوکہ دیا اور حیلہ بازی کی۔وَالْاِسْمُ اَلْمَکِیْدَۃُ اور اس کا اسم مصدر مَکِیْدَۃ ہے جس کے معنی دھوکہ اور چالاکی کے ہیں۔وَعَلَّمَہُ الْکَیْدَ۔اور کَادَ کے ایک معنی ہیں اسے تدبیر سکھلائی۔وَبِہٖ فُسِّرَ کَذٰلِکَ کِدْنَا لِیُوْسُفَ أَیْ عَلَّمْنٰہُ الْکَیْدَ عَلٰی اِخْوَتِہٖ۔اور قرآن کریم میں یوسفؑ کے متعلق جو یہ لفظ آیا ہے اس کے بھی یہی معنے کئے گئے ہیں کہ ہم نے اسے تدبیر سکھائی۔کَادَلَہُ۔اِحْتَالَ لَہُ اس سے حیلہ بازی کی۔فُلَانًا حَارَبَہٗ۔اس سے جنگ کی۔اَرَادَہٗ بِسُوْءٍ۔اس سے بدی کا ارادہ کیا۔اَلْکَیْدُ۔الْمَکْرُوَالْخُبْثُ۔کَید کے معنے مکر اور خباثت یعنی بدباطنی کے ہیں۔اَلْحِیْلَۃُ تدبیر۔اَلْحَرْبُ جنگ۔اَرَادَۃُ مَضَرَّۃِ الْغَیْرِخُفْیَۃً دوسرے کو پوشیدہ طور پر تکلیف پہنچانے کا ارادہ۔وَھُوَ مِنَ الْخَلْقِ الْحِیْلَۃُ السَّیِّئَۃُ وَمِنَ اللہِ التَّدْبِیْرُ بِالْحَقِّ لِمَجَازَاۃِ اَعْمَالِ الْخَلْقِ۔اور جب یہ کسی مخلوق کا فعل ہو تو اس کے معنے بری تدبیر کے ہوتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو تو اس کے معنے پکی اور مناسب تدبیر کے ہوتے ہیں جو انسانوں کے اعمال کا بدلہ دینے کے لئے اختیار کی گئی ہو۔(اقرب) تفسیر۔بائبل اور قرآن کریم کے بیان میں تیسرا فرق۔یوسف نے صرف باپ کو اپنا خواب سنایا تھا بائبل اور قرآن کریم کے بیانات میں اس جگہ پھر اختلاف ہو گیا ہے اور پہلے کی طرح بائبل خود شاہد ہے کہ اس کا بیان غلط ہے۔قرآن کریم نے تو بتایا ہے کہ یوسفؑ نے اپنا یہ خواب پہلے اپنے والد کو سنایا اور اس نے انہیں منع کر دیا کہ بھائیوں کو یہ خواب نہ سنائیو۔لیکن بائبل میں لکھا ہے کہ یوسف علیہ السلام نے پہلے اپنے بھائیوں کو یہ خواب سنایا۔(پیدائش باب۳۷ آیت ۹) اس اختلاف میں بھی قرآن کریم ہی صادق ہے۔کیونکہ بائبل میں لکھا ہے کہ اس خواب کے دیکھنے سے پہلے یوسفؑ نے ایک اور خواب دیکھا تھا۔اور اپنے بھائیوں کو سنایا تھا۔چنانچہ لکھا ہے۔’’اور یوسف نے ایک خواب دیکھا اور اسے اپنے بھائیوں سے کہا تب وے اس سے زیادہ متنفر ہوئے۔(پیدائش باب۳۷ آیت۵) پھر لکھا ہے۔’’تب اس کے بھائیوں نے اسے کہا کہ کیا تو سچ ہمارا بادشاہ ہوگا یا تو ہمارا حاکم ہوگا؟ اور انہوں نے اس کے خوابوں اور اس کی باتوں سے اس کا زیادہ کینہ پیدا کیا۔(پیدائش باب۳۷آیت ۸) ان دونوں خوابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یوسف علیہ السلام نے اس خواب سے پہلے بھی ایک خواب دیکھی تھی اور جب انہوں نے وہ خواب اپنے بھائیوں کو سنائی تو