تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 396
اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَيْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِيْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ کو پورا کرے گا جیسا کہ اس نے( اس سے )پہلے تیرے دو بزرگوں ابراہیم اور اسحٰق پر پوراکیا تھا۔رَبَّكَ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌؒ۰۰۷ تیرا رب یقیناً بہت جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔تفسیر۔کَذٰلِکَ کے معنی یعنی جس طرح تو نے خواب دیکھی ہے اسی طرح تجھ سے اللہ تعالیٰ معاملہ کرے گا اور وہ بزرگی جس کا اس خواب میں وعدہ ہے آخر تجھے ملے گی۔تعلیم تأویل الاحادیث کے دو معنے اور یہ جو فرمایا کہ خدا تعالیٰ تجھے خوابوں کی حقیقت بتائے گا اس کے دو معنے ہیں ایک یہ کہ خواب میں جو نظارہ دکھایا اسی طرح ظاہر میں کرکے دکھائے گا۔دوسرے یہ کہ خوابوں کی تعبیر کرنے کا ملکہ عطا فرمائے گا۔اتمام نعمت سے مراد يُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ سے مراد مقام نبوۃ پر کھڑا کرنا ہے۔یوسفؑ سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی نبوت عطا فرمائے گا اور ان کے ذریعہ سے آل یعقوب کو بزرگی عطا فرمائے گا یعنی انہیں ان پر ایمان لاکر اس نبوت میں حصہ لینے کی توفیق عطا ہوگی۔بائبل اور قرآن کریم کے بیان میں چوتھا فرق۔حضرت یعقوب ؑ رؤیا کو سن کر خوش ہوئے تھے اس آیت میں جو مضمون بیان ہوا ہے اس میں اور بائبل کے بیان میں بھی اختلاف ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے یوسف علیہ السلام کی خواب پر یقین کیا اور اس پر خوشی کا اظہار کیا۔لیکن بائبل کہتی ہے کہ جب یوسف علیہ السلام نے اپنے والد سے خواب بیان کی ’’تب اس کے باپ نے اسے ڈانٹا اور اس سے کہا کہ یہ کیا خواب ہے جو تو نے دیکھا ہے؟ کہا کیا میں اور تیری ماں اور تیرے بھائی سچ مچ تیرے آگے زمین پر جھک کے تجھے سجدہ کریں گے اور اس کے بھائیوں کو رشک آیا لیکن اس کے باپ نے اس بات کو یاد رکھا (پیدائش باب۳۷ آیت ۱۰ و ۱۱) اس حوالہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خواب سن کر یعقوب علیہ السلام نے یوسف علیہ السلام کو ڈانٹا حالانکہ ہر عقلمند انسان سمجھ سکتا ہے کہ بائبل کا یہ بیان خلاف عقل ہے کیونکہ کوئی معقول آدمی کسی کو خواب دیکھنے پر ڈانٹ نہیں سکتا کیونکہ خواب کا دیکھنا کسی کے اختیار میں نہیں ہے۔ہاں صرف ایک صورت ڈانٹنے کی ہوسکتی ہے کہ یہ خیال کیا جائے