تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 31

ایک لمبا سلسلہ شروع ہو گیا۔اور پھراس کے بعد اسلام کے پہاڑ یعنی ابوبکرو عمر و عثمان و علی وَغَیْرَہُمْؓ لوگ تیار ہوئے۔یہ لوگ انہی زلازل کے سبب سے ممتاز ہوئے۔اگر زلازل نہ آتے تو ان کے جوہر بھی نہ کھلتے اور یہ بھی اس مقام کو نہ پہنچتے اس کے بعد پانچواں دور یہ آیا کہ جس طرح زمین میں نبات پیدا کرنے کی قابلیت پیدا ہوئی تھی آپ کی تعلیم بھی سرسبز و شاداب نظرآنے لگی اور لوگ محسوس کرنے لگے کہ یہ ایک خوش گوار تعلیم ہے۔اور مختلف علاقوں میں پھیلنے لگی۔اس کے بعد جس طرح زمین میں حیوانات پیدا ہونے لگے تھے اسلام کے اندر قوت و طاقت پیدا ہو گئی۔اور پھر اس نے دشمنوں کے حملوں کا دفاع شروع کردیا۔آخر ساتواں یعنی تکمیل کا دور یہ آیا کہ جس طرح زمین پر انسان پیدا ہوا تھا اور اس نے کل عالم پر حکومت شروع کی تھی خدا تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ اور طاقت بخشی اور اس کی شریعت جاری ہو گئی اور دنیا پرا س نے حکومت کرنی شروع کر دی۔گویا انسان کامل کا دور شروع ہوا۔ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ سے اس طرف اشارہ کیا کہ جس طرح وہاں پیدائش عالم کے بعد خدا تعالیٰ عرش پر قرار فرما ہوا تھا اسی طرح یہاں ہوگا۔یعنی اسلام کے قیام کے بعد اللہ تعالیٰ مقام تنزل کی طرف رجوع کرے گا اور صرف اسلام ہی کے ذریعے سے آیندہ روحانی ترقیات حاصل ہوں گی جس طرح عالم مادی کے پیدا کرنے کے بعد ہر اک کام قوانین نیچر کی وساطت سے ہوتا ہے اور عام حالات میں خدا تعالیٰ براہ راست کوئی تغیر نہیں فرماتا۔شفاعت دوم مَا مِنْ شَفِيْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ کا حصہ قابل تشریح ہے۔شَفِیْعٌ شَفَعَ سے نکلا ہے۔اس کے معنی ہیں دو کر دینا۔چنانچہ کہتے ہیں شَفَعَ العَدَدَ وَالصَّلٰوۃَ۔ایک کو دو کر دیا یا ایک رکعت پڑھ کر ایک اور پڑھی۔اور اسے دو رکعت بنا دیا۔اور نَاقَۃٌ شَافِعٌ اس اونٹنی کو کہتے ہیں کہ جس کے پیٹ میں بھی بچہ ہو۔اور اس کے ساتھ بھی بچہ ہو(اقرب)۔گویا وہ اپنے پہلے بچہ کو دو بنا دیتی ہے۔لیکن صرف ایک کو دو بنا دینا اس لفظ سے نہیں نکلتا۔بلکہ یہ شرط بھی ہے کہ ضَمُّ الشَّیْءِ اِلَی مِثْلِہٖ ہو۔یعنی اس قسم کی چیز ملائی جائے یہ نہیں کہ کوئی اونٹ کے ساتھ ایک گھوڑا کھڑا کر دے اور کہہ دے کہ شَفَعْتُ النَّاقَۃُ اونٹ کے ساتھ اونٹ ہی ملایا جائے تب ہی شفع کا لفظ استعمال ہوگا۔مسئلہ شفاعت کا حل ان معنوں کو مدنظر رکھنے سے شفاعت کا مسئلہ بالکل حل ہو جاتا ہے۔اور ان لوگوں کی غلطی ظاہر ہو جاتی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ شفاعت سے گنہ میں ترقی ہوتی ہے اور لوگ عمل چھوڑ دیتے ہیں۔کیونکہ شافع یا شفیع کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ وہ ہم جنس کو آپس میں ملائے۔پس گنہ گار اور بدکار کو نیکوں سے ملانا تواس کے مفہوم میں شامل ہی نہیں۔بلکہ اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ جسے خدا تعالیٰ نے شفیع بنایا ہو وہ بدکاروں کو نیک بنا بنا کر پہلی نیک جماعتوں کے ساتھ ملائے یہ معنی اس دنیا کے لحاظ سے ہیں۔دوسرے معنی اس کے یہ ہیں کہ آخری فیصلہ کے دن جو لوگ ایک