تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 32

بڑی حد تک نیک ہوں صرف بعض خامیاں ان میں ہوں جو ان کو کاملین میں شامل ہونے سے روک رہی ہوں اور اللہ تعالیٰ کا فضل چاہتا ہو کہ ان کی ان چھوٹی چھوٹی خامیوں کو نظرانداز کرکے اور ان کی اس جدوجہد کو مدنظر رکھ کر جو وہ اپنی تکمیل کے لئے کرتے رہے ہیں انہیں کاملین میں ہی شامل کر دے تو خدا تعالیٰ سے اذن پاکر امت کا نبی خدا تعالیٰ سے سفارش کرے کہ ان کی تھوڑی تھوڑی خامیوں کو نظرانداز کرکے ہمارے ساتھ ہی شامل سمجھا جائے۔یہ معنی اگلے جہان کے متعلق ہیں۔اور شفاعت کے لئے شرط ہے کہ اذن سے ہو اور اذن بھی اسی شخص کے متعلق ملے گا جو شخص دل سے تو کاملین کے ساتھ ہو اور اس نے کامل بننے کی پوری کوشش کی ہو مگر بعض خامیاں اس میں رہ گئی ہوں۔ایسے شخص کے حق میں شفاعت ہرگز گنہ کو بڑھاتی نہیں بلکہ کامل ہونے کی خواہش کو تیز کرتی ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں پڑ سکتا۔عرش سوم عرش کا لفظ تشریح طلب ہے۔عرش کے متعلق لوگوں میں بہت کچھ اختلاف ہے۔بعض لوگ اسے ایک جسم قرار دیتے ہیں۔بعض اس کی حقیقت سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں اور صرف لفظ پر ایمان لانا کافی سمجھتے ہیں۔عرش سے مراد صفات تنزیہیہ ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چشمۂ معرفت میں عرش کی حقیقت پر ایک لطیف بحث کی ہے اور بتایا ہے کہ عرش درحقیقت صفات تنزیہیہ کا نام ہے جو ازلی اور غیر مبدل ہیں ان کا ظہور صفات تشبیہیہ کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔اور وہ حامل عرش کہلاتی ہیں جیسے کہ قرآن کریم میں آتا ہے وَ يَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ (الحاقّۃ:۱۸) قیامت کے دن تیرے رب کا عرش آٹھ (امور) اپنے اوپر اٹھائے ہوں گے۔یعنی آٹھ صفات کے ذریعہ سے ان کا ظہور ہورہا ہوگا۔جیسا کہ اس وقت چار صفات سے ہوتا ہے۔یعنی رب العالمین، رحمن، رحیم اور مالک یوم الدین کے ذریعہ سے۔چونکہ صفات الٰہیہ کا ظہور فرشتوں کے ذریعہ سے ہوتا ہے اس لئے یہاں ھُم کی ضمیر استعمال کی گئی ہے جس طرح بادشاہ اپنی جلالت شان کا اظہار عرش پر بیٹھ کر کرتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کی اصل عظمت ذوالعرش ہونے میں ہے۔یعنی صفات تنزیہیہ کے ذریعہ سے جن میں کوئی مخلوق اس سے ایک ذرہ بھر بھی مشابہت نہیں رکھتی۔عرش کوئی مخلوق چیز نہیں بعض لوگوں نے قرآن کریم کی بعض آیات سے یہ دھوکا کھایا ہے کہ عرش مخلوق ہے۔جیسے مثلاً یہ آیت ہے۔اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ الایۃ ( المومن:۸ ) وہ کہتے ہیں کہ عرش کو جب کسی نے اٹھایا ہوا ہے تو معلوم ہوا وہ ایک مخلوق شئے ہے۔لیکن یہ استدلال درست نہیں۔حملِ عرش سے خلق عرش ثابت نہیں ہوتا کیونکہ حمل کے معنی صرف کسی مادی چیز کے اٹھانے کے ہی نہیں