تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 30
دو دور گذرے تھے گووہ الگ دور نہ تھے بلکہ زمین کی پیدائش کا جو زمانہ تھا وہی آسمانوں کا بھی تھا۔پس کل روز چھ ہی رہے۔آٹھ نہ ہوئے۔علم طبقات الارض سے بھی یہی ثابت ہے کہ پیدائش عالم ایک ہی وقت میں ہوئی ہے۔زمین بھی اور باقی سیارے بھی ایک ہی وقت میں تکمیل کے مدارج طے کررہے تھے۔یہ نہیں کہ زمین پہلے بنی اور پھر دوسرے سیارے یا یہ کہ سیارے پہلے بنے اور پھر زمین۔پس جو ہر زمین کے بننے کا وقت تھا اسی وقت اس کا آسمان بھی بن رہا تھا۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس جگہ اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ آسمانی اجرام کی اندرونی قابلیتیں کس قدر عرصہ میں بنیں۔فِی سِتَّۃِ اَیَّامٍ میں یَوْمکی مقدار اب رہا یہ سوال کہ یہ یوم یعنی وقت کس کس قدر عرصہ کے تھے۔سو اس کے متعلق یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس کی تعیین خدا تعالیٰ نے نہیں کی اور اس وجہ سے ہم بھی نہیں کرتے۔علم طبقات الارض اور علم ہیئت سے جو امور یقینی طور پر معلوم ہوں ان سے ہم اندازہ کرسکتے ہیں یا اگر کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کشف کے ذریعہ سے کچھ بتا دے تو وہ ایک اندازہ کرسکتا ہے۔ورنہ ہم صرف یہ یقین رکھیں گے کہ دو عظیم الشان دور آسمان و زمین کی پیدائش پر گذرے ہیں۔اور یہ سوال کہ ان میں سے ہر اک دور کس قدر عرصہ کا تھا۔اسے ہم خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیں گے۔اصل بات یہ ہے کہ علم ہیئت اور علم طبقات الارض میں بھی قرآنی اصطلاح کے مطابق ایک عظیم الشان تغیر کو عرصہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور انگریزی میں اسے (PERIOD) کے نام سے موسوم کرتے ہیں جو مفہوم (PERIOD) یعنی عرصہ کا علم ہیئت اور علم طبقات الارض میں ہوتا ہےوہی مفہوم یوم کا قرآنی آیات میں ہے۔روحانی عالم کی تکمیل کے سات مدارج اس آیت سے اور بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیدائش عالم میں یہ سنت مقرر کی ہے کہ ہر چیز کی تکمیل ساتویں درجہ پر ہوتی ہے۔چھ درجے خلق کے ہوتے ہیں اور ساتواں تکمیل کا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے کہ یہ روحانی عالم بھی چھ دوروں میں تکمیل کو پہنچے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔آپ کے دعویٰ کے بعد پہلی حالت دخان کی تھی یعنی سوائے تاریکی اور دھند کے کچھ نظر نہیں آتا تھا۔اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ آپ کی بعثت سے بجائے دنیا کو کچھ فائدہ پہنچنے کے الٹا کچھ نقصان ہی ہوا ہے اور تفرقہ اور جنگ زیادہ ہو گیا ہے۔سب دعاوی بھی مثل دخان کے تھے کہ کوئی ٹھوس چیز ابھی نظر نہ آتی تھی۔اس کے بعد دوسرا دور آیا کہ وہ دخان کچھ کچھ سمٹنے لگا۔کچھ آدمی آپ پر ایمان لے آئے اور لوگوں کو معلوم ہونے لگا کہ یہ سلسلہ بھی ایک علیحدہ ہستی بن رہا ہے۔اس کے بعد اندرونی تغیرات شروع ہوئے۔اور جس طرح زمین میں زلازل وغیرہ آتے ہیں اسی طرح اسلام کے خلاف جوش پیدا ہوا۔اور زلازل کا