تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 331

قرآن کریم بتاتا ہے کہ شعیب ؑ پر ایمان لانے والی ایک جماعت تھی۔(۷) سب سے بڑھ کر اور قطعی ثبوت اس امر کا کہ شعیب اور حوباب الگ الگ شخص تھے یہ ہے کہ قرآن کریم میں حضرت شعیب کی قوم کی تباہی کا ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰيٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىِٕهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا (الاعراف:۱۰۴) یعنی اس قوم کے بعد ہم نے موسیٰ کو مبعوث کیا تھا۔پس جب قرآن کریم بوضاحت اور بنصِ صریح حضرت موسیٰ کی بعثت کو شعیب ؑ کی قوم کی تباہی کے بعد بتاتا ہے تو ہم کس طرح خیال کرسکتے ہیں کہ شعیب اور حوباب موسیٰ علیہ السلام کے خسر ایک ہی شخص تھے۔اور یہ کہ شعیب کی قوم کی تباہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے ہوئی۔(۸) اگر شعیب کو حضرت موسیٰ ؑ کا خسر قرار دیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ موسیٰ کے مدین پہنچنے پر شعیب ؑ مبعوث ہوئے۔اور ان کا کام صرف موسیٰ ؑ سے صلح رکھنے کی تلقین کرنا تھا۔حالانکہ موسیٰ علیہ السلام کو اور قوموں سے بھی واسطہ پڑا۔جیسے عمالقہ وغیرہ۔لیکن انہیں سمجھانے کے لئے کوئی نبی مبعوث نہ ہوا۔(۹) حضرت شعیب علیہ السلام کا قول اسی رکوع میں آتا ہے۔لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِيْۤ اَنْ يُّصِيْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِيْدٍ (ھود:۹۰) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شعیب حضرت لوط کی قوم کے قریب بعد میں ہوئے۔پس حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں انہیں قرار دینا درست نہیں ہوسکتا۔(۱۰) اگر شعیب ؑ حضرت موسیٰ ؑ کے خسر ہوتے تو جیسا انہوں نے نوح، ہود اور صالح کی قوم کی تباہیوں کا ذکر کیا تھا تو کیوں تازہ بتازہ تباہی جو حضرت موسیٰ کے دشمن فرعون کو پہنچی تھی اس کا ذکر نہ کرتے۔خصوصاً جبکہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہی کی تائید کررہے تھے۔تو یہ خیال نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اس موقع پر ان تائیدات کا ذکر چھوڑ دیں گے۔جو موسیٰ علیہ السلام کو ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں ملیں۔پس میرے نزدیک ان مفسرین کا خیال غلط ہے جو شعیب ؑ کو حضرت موسیٰ ؑ کا خسر قرار دیتے ہیں۔حوباب جو حضرت موسیٰ ؑ کا خسر تھا وہ بالکل اور شخص ہے اور حضرت شعیب ؑ اور شخص ہیں۔اور میرے نزدیک یہ قوم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعثت سے پہلے تباہ ہوچکی تھی۔اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں صرف اس کی نسل کا بقیہ موجود تھا اور شان و شوکت اس قوم کی زائل ہوچکی تھی۔حوباب نے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا نظام تجویز کیا ہے وہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شعیب ؑ کے اثر