تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 330
لیکن نہ بائبل سے اور نہ قرآن کریم سے کسی ایسے واقعہ کا پتہ لگتا ہے جس کی بناء پر ہم اس آیت کو بنی اسرائیل اور اہل مدین کے تعلقات پر چسپاں کرسکیں۔(۲) حضرت شعیبؑ کا قول ہے کہلَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا (الاعراف:۸۶)زمین میں صلح قائم ہوجانے کے بعد فساد نہ کرو۔لیکن حضرت موسیٰ کی قوم سے جو مدین والوں کا معاملہ ہوا تھا اس پر یہ فقرہ چسپاں نہیں ہوتا کیونکہ موسیٰ کی قوم سے ان کی کوئی صلح نہ ہوئی تھی۔بلکہ برخلاف اس کے اگر بائبل کا بیان صحیح تسلیم کیا جائے تو انہوں نے مدین والوں کی جائیدادوں پر قبضہ کرلیا تھا۔پس صلح کا تو اس موقع پر کوئی ذکر ہی نہیں۔یہاں تو فساد کی بنیاد پڑتی نظر آتی ہے۔ان حالات میں ہم مجبور ہیں کہ اصلاح سے مراد وہ نیکی کی بنیاد لیں جو پہلے نبی کے زمانہ میں ڈالی گئی تھی۔اور یہ سمجھیں کہ شعیب ؑ یہ نصیحت کرتے ہیں کہ جو نیکی پہلے انبیاء کے ذریعہ سے قائم ہوئی تھی اسے تم لوگ اپنے اعمال سے برباد نہ کرو۔(۳) تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ حوباب مدین کی تباہی کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے گئے اور وہاں انہیں زمین مل گئی(گنتی باب ۱۰)۔اور اس کے بعد ان کا ذکر خاموشی کے پردہ کے پیچھے چھپ جاتا ہے۔لیکن یہ امر کہ ایک نبی اپنی قوم کو چھوڑ کر ایک دوسرے علاقہ میں چلا گیا اور اپنی بعثت کے کام کو بھلا کر صرف زمیندارہ میں مشغول ہو گیا عقل کے خلاف ہے۔(۴) بائبل میں حوباب کے نبی ہونے کا کہیں ذکر نہیں حالانکہ جب وہ حضرت موسیٰ ؑ کے زمانہ کے آدمی تھے اور پھر ان کے خسر تھے تو اگر وہ نبی ہوتے تو غالب خیال یہ ہے کہ ان کی نبوت کا ذکر اس میں ہوتا۔(۵) قرآن کریم میں حضرت شعیب کا متعدد جگہ ذکر آیا ہے۔اور اسی طرح حضرت موسیٰ ؑ کے خسر کا بھی ذکر قرآن کریم میں ہے۔لیکن ایک جگہ بھی اس نے اشارہ نہیں کیا۔کہ یہ دونوں وجود ایک ہی ہیں۔اور نہ کہیں موسیٰ ؑ کے خسر کے نبی ہونے کا ذکر آیا ہے۔(۶)یہ عقل کے خلاف ہے کہ ایک نبی کی قوم کو دوسرے نبی کے ہاتھوں سے تباہ کروایا جائے۔اور پھر اگر یہ صحیح ہو تو لازماً شعیب اور ان پر ایمان لانے والوں کو حضرت موسیٰ ؑ کا ساتھ دینا چاہیےتھا مگر اس کا ذکر تورات میں بالکل نہیں بلکہ یہ ذکر بھی نہیں کہ حوباب پر ایمان لانے والا کوئی ایک شخص بھی تھا۔برخلاف اس کے وہاں یہ لکھا ہے کہ صرف حوباب کی اولاد ان کے ساتھ تھی(گنتی باب ۱۰)۔لیکن