تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 332
سے متاثر ہوکر تھا کیونکہ جیسا کہ ہر نبی کی قوم کو ترقی عطا ہوتی ہے ضرور ہے کہ حضرت شعیب پر ایمان لانے والوں کو بھی ترقی ملی ہو اور چونکہ ان کا زمانہ قریب کا تھا ان کے تمدن کے آثار ابھی تازہ ہوں گے اور انہی سے متاثر ہوکر حوباب نے جو معلوم ہوتا ہے کہ شعیب کی امت میں سے تھے ایک نظام تجویز کیا جو موسیٰ کی قوم میں جاری ہوا۔بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا اگر تم (سچے) مومن ہو تو( یقین جانو کہ) اللہ (تعالیٰ) کا (تمہارے پاس) باقی چھوڑا ہوا( مال ہی) تمہارے لئے عَلَيْكُمْ بِحَفِيْظٍ۰۰۸۷ بہتر (اور مبارک ہے) اور میں تم پر کوئی محافظ (بنا کر) نہیں (بھیجا گیا)۔حلّ لُغَات۔بَقِیَّۃٌ۔اَلْبَقِیَّۃُ اِسْمٌ لِّمَابَقِیَ بقیہ حصہ۔وَمَثَلٌ فِی الْجَوْدَۃِ وَالْفَضْلِ یُقَالُ فُلَانٌ بَقِیَّةُ الْقَوْمِ اَیْ مِنْ خَیَارِھِمْ۔بقیہ کا لفظ خوبی اور کمال کے بیان کے لئے آتا ہے یعنی جب کسی کو بَقِیَّۃُ الْقَوْمِ کہیں تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنی قوم کے بہترین آدمیوں میں سے ہے۔اسی طرح عربی زبان کا محاورہ ہے فِی الزَّوَایَا خَبَایَا وَفِی الرِّجَالِ بَقَایَا۔کونوں میں چھپے ہوئے خزانے مل جاتے ہیں اور انسانوں میں اچھے سے اچھے آدمی مل جاتے ہیں۔اُولُوْابَقِیَّۃٍ اَیْ اُولُواالرَّأْیِ وَالْعَقْلِ۔اور قرآن کریم میں جو اُولُوْا بَقِیَّۃٍ کا لفظ آیا ہے اس کے معنی ہیں عمدہ رائے اور عقل والے لوگ۔(اقرب) تفسیر۔بَقِيَّتُ اللّٰهِ سے مراد بَقِيَّتُ اللّٰهِ یعنی جو مال نیک ذرائع سے حاصل ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ کی اجازت کے ماتحت ملا ہو۔وہ اچھا ہے۔اسی پر کفایت کرنی چاہیےاور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ ترقی کی قابلیتیں جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں دی ہیں اگر ان کو استعمال کرو تو تم زیادہ ترقی کرسکتے ہو بہ نسبت ٹھگی کے کاموں کی طرف توجہ کرنے کے۔مَاۤ اَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيْظٍ میں کیا بتایا گیا ہے وَ مَاۤ اَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيْظٍ میں بتایا ہے کہ یہ خیال نہ کرنا کہ میری وجہ سے عذاب ٹل جائے گا۔اگر میری نصیحت کو نہ مانو گے تو ضرور عذاب میں مبتلا ہوجاؤ گے۔اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ باوجود انبیاء سے دشمنی کے ان کے پہلے چال چلن اور نمونہ کی وجہ سے لوگ اپنے دلوں میں انہیں ایک خیرو برکت کا موجب وجود ہی خیال کرتے ہیں۔مخالفت کی تہہ کے نیچے ادب و احترام کا جذبہ ضرور کام کررہا ہوتا ہے۔