تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 329

سورۂ حجر (ع۵) میں فرماتا ہےوَ اِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَيْكَةِ لَظٰلِمِيْنَ۔فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ١ۘ وَ اِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِيْنٍ (الحجر:۷۹،۸۰)۔اور اصحاب ایکہ ضرور ظالم تھے۔اس وجہ سے ہم نے انہیں ان کے جرم کی سزا دی اور وہ دونوں (قوم لوط اور اصحاب الایکہ) ایک عام چلنے والے راستہ پر واقع تھے۔مفسرین کا قول ہے کہ شعیب علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں تھے اور ان کے خسر تھے۔اور انہیں کے پاس موسیٰ ؑ واقعہ قتل کے بعد آکر ٹھہرے تھے۔اور پھر ان کی لڑکی سے شادی کرلی تھی(تفسیر حقانی زیر آیت ھذا)۔لیکن تورات میں اس شخص کا نام جس کے پاس موسیٰ ؑآکر ٹھہرے اور جس کی لڑکی سے انہوں نے شادی کی تھی بعض جگہ حوباب اور بعض جگہ یترو آتا ہے(خروج ۳/۱ و گنتی ۱۰/۲۹)۔مصنف ارض القرآن کی بھی یہی رائے ہے کہ مفسرین کا قول صحیح ہے اور انہوں نے اس امر کے ثبوت میں کئی دلائل دیئے ہیں۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ (۱)بائبل سے معلوم ہوتا ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر آئے تھے تو پہلے مدین میں آکر ٹھہرے تھے۔اور جب مدین کی عورتوں نے انہیں لوٹنا شروع کیا اور ان کو شرک میں مبتلاء کرنے لگیں (کیونکہ وہ ان کو اپنے مندروں میں لے جاتی تھیں) تو موسیٰ علیہ السلام نے ان پر چڑھائی کی اور ساری کی ساری قوم کو تباہ کر دیا۔حتیٰ کہ بچوں اور عورتوں کو بھی۔(۲) دوسری دلیل وہ یہ د یتے ہیں کہ قرآن کریم میں حضرت شعیبؑ کا قول نقل ہے۔بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيْرٌ لَّكُمْ (ہود:۸۷) اس سے مراد بھی یہی ہوسکتی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے اہل مدین کی زمین بنی اسرائیل میں بانٹ دی تھی۔حضرت شعیب ؑ اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ جو ہو گیا سو ہو گیا۔جس قدر زمین تمہارے لئے چھوڑ دی ہے تم اس پر اکتفا کرو۔لَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا (الاعراف:۸۶) سے بھی ان کے نزدیک یہ ہی مراد ہے کہ بنی اسرائیل سے صلح کرنے کے بعد لڑو نہیں۔(ارض القرآن از سید سلیمان ندوی زیر عنوان مدین ، شعیب) مصنف ارض القرآن نے مدین قوم کے مقام اور ان کے قومی حالات کے متعلق جو کچھ لکھا ہے میں اس سے متفق ہوں اور ان کی محنت کی داد دیتا ہوں۔لیکن مجھے حضرت شعیب کی شخصیت کے متعلق ان سے اختلاف ہے۔اور اس کے مندرجہ ذیل وجوہ ہیں: (۱) قرآن کریم میں حضرت شعیب کی قوم کا یہ قول درج ہےاَوْاَنْ نَّفْعَلَ فِيْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا (ھود:۸۸) کیا تو اس امر کا ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم اپنے اموال کو جس طرح چاہیں استعمال نہ کریں۔