تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 328

یثرب تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اس کی وبائیں دور کرکے اس کا نام مدینہ ڈلوا دیا۔اور اس طرح ظاہری مشابہت بھی قائم ہو گئی۔حضرت شعیب ؑ کا زیادہ تر مقابلہ اہل شہر سے تھا قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شعیبؑ کا زیادہ مقابلہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح اہل شہر سے ہی تھا۔سورۂ اعراف میں آتا ہے۔قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ يٰشُعَيْبُ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِيْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِيْنَ۔(الاعراف:۸۹) یہ قوم تجارتی کاروبار میں خیانت کا شیوہ رکھتی تھی (۲) دوسری بات اس سے یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ ان کی قوم شرک میں مبتلا ہونے کے علاوہ معاملات کی خرابی کی مرض میں بھی مبتلا تھی۔تبھی تو اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَ الْمِيْزَانَ۔پیمانہ اور تول میں کمی نہ کیا کرو۔اس قوم کی مالی حالت اچھی تھی (۳)اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ان کی مالی حالت بہت اچھی تھی کیونکہ فرمایا ہے کہ اِنِّی اَرٰکُمْ بِخَیْرٍ یعنی میں یقیناً تمہاری مالی حالت اچھی دیکھتا ہوں۔یہ قوم راہ زنی بھی کرتی تھی (۴)یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم ڈاکے بھی ڈالتی تھی کیونکہ فرمایا ہے۔وَ لَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا۔(الاعراف :۸۶) وَ لَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ۔(ہود:۸۶) اور یہ الفاظ یا تو قتل و غارت پر دلالت کرتے ہیں یا ڈاکہ و راہ زنی پر۔چونکہ یہ علاقہ عرب اور شام اور مصر کے راستوں پر تھا معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ مسافروں کو لوٹ لیا کرتےتھے۔اس قیاس کو مزید تقویت اس امر سے حاصل ہوتی ہے کہ مدین قوم کے قبضہ میں مدین کے پاس ایک جنگل تھا جس میں ودان قوم رہتی تھی جو مدین کے بھتیجے اور حضرت ابراہیمؑ کے ایک دوسرے بیٹے کی نسل سے کہ وہ بھی قتورہ کے بطن سے تھا پوتے تھے۔اس جنگل میں رہنے والوں کو قرآن کریم نے اصحاب الایکہ کے نام سے موسوم کیا ہے۔اور سورۂ شعراء (رکوع ۱۰) میں ان اصحاب الایکہ کو بھی حضرت شعیب کی زبانی یہی کیا گیا ہے جو کہ مدین والوں کو کہا گیا ہے۔چنانچہ فرمایاكَذَّبَ اَصْحٰبُ لْـَٔيْكَةِ الْمُرْسَلِيْنَ۔اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ۔اِنِّيْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ۔فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوْنِ۔وَ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔اَوْفُوا الْكَيْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِيْنَ(الشعراء:۱۷۷ تا ۱۸۲)۔ایکہ عربی زبان میں ایسے جنگل کو کہتے ہیں کہ جس میں بیریاں اور پیلو کے درخت ہوں۔ایسے جنگل میں ڈاکے ڈالنے زیادہ آسان ہوتے ہیں کیونکہ بیری اور پیلو کے پتے نیچے سے شروع ہوتے ہیں۔جن کی وجہ سے ان کےپیچھے آدمی آسانی سے چھپ سکتا ہے اور