تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 327
محیط کو یوم کی وصف بنانےکی وجہ اِنِّيْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيْطٍ۔اَحَاطَہٗ بِالشَّیْ ءِ۔کے معنے میں بتاچکا ہوں کہ ہلاک کر دینے کے ہوتے ہیں۔یوم کی صفت محیط کو مجازاً مبالغہ کے اظہار کے لئے بنایا ہے۔جیسے کہتے ہیں نَـہَارُہُ صَائِمٌ اس کا دن روزہ دار ہے۔مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے دنوں کو کامل روزہ کی حالت میں گزارتا ہے۔ا سی طرح عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيْطٍ سے مراد یہ ہے کہ اس دن کا عذاب بالکل تباہ کر دینے والا ہوگا۔يَوْمٍ مُّحِيْطٍ سے یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ وہ دن ختم نہیں ہوگا۔جب تک سب قوم کو تباہ نہ کرلے۔مدین حضرت شعیب علیہ السلام مدین قوم کی طرف آئے تھے اور مدین حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایک بیٹے کا نام ہے۔جو قتورہ کے پیٹ سے تھے۔(قتورہ آپ کی تیسری بیوی تھی یعنی سارہ اور ہاجرہ کے علاوہ) ان کا ذکر پیدائش باب ۱/۲۵ میں آتا ہے۔پرانے زمانے کے اصول کے لحاظ سے کہ باپ کے نام پر اولاد بھی پکاری جاتی تھی۔ان کی اولاد بھی ان کے نام کے لحاظ سے مدین کہلائی۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شروع میں وہ بنو مدین کہلاتے ہوں۔پھر کثرتِ استعمال سے بنو کا لفظ اڑ گیا ہو اور خالی مدین رہ گیا ہو۔اس قوم کے مرکزی شہر کا نام بھی مدین ہے۔ممکن ہے کہ ابتداء میں یہ دُور مدین کہلاتا ہو۔پھر کثرتِ استعمال سے مدین رہ گیا ہو۔مدین شہر کا محل وقوع یہ شہر خلیج عقبہ کے پاس تھا۔بحیرہ احمر جہاں ختم ہونے لگتا ہے وہاں اس کی دو شاخیں ہوجاتی ہیں۔ایک مصر کے ساحل کے ساتھ ساتھ چلی جاتی ہے اور ایک عرب کے ساحل کے ساتھ ساتھ چلی جاتی ہے۔جو شاخ عرب کے ساحل کے ساتھ ساتھ جاتی ہے اس کو خلیج عقبہ کہتے ہیں اور یہ شہر خلیج عقبہ کے پاس عرب کی جانب سمندر کے بالکل قریب چھ سات میل کے فاصلہ پر ہے۔بوجہ اتنا قریب ہونے کے پرانے زمانہ کے جغرافیہ نویسوں میں سے بعض اس کو بندرگاہ لکھتے ہیں اور بعض اس کو خشکی کا شہر لکھتے ہیں۔عرب سے جو قافلے مصر کو جاتے تھے وہ مدین کے راستہ سے ہوکر جاتے تھے۔اب بھی مدین نام کی کئی بستیاں چھوٹے چھوٹے قصبات کے رنگ میں ملتی ہیں۔اصل مدین شہر اب موجود نہیں ہے۔مدین کی اولاد حجاز کے شمال میں بستی تھی۔اور یہ شہر انہی کا بنایا ہوا تھا۔آنحضرت ؐ اور حضرت موسیٰ میں ایک وجہ مماثلت حضرت موسیٰ علیہ السلام واقعۂ قتل کے بعد ہجرت کرکے مدین میں ہی آئے تھے(خروج ۲/۱۵)۔اور بنی اسرائیل کو لے کر بھی جب وہ آئے تب بھی وہ مدین ہی کے قریب آکر ٹھہرے تھے(خروج باب ۱۸)۔یہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مشابہت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں ٹھہرے اور موسیٰ علیہ السلام مدین میں ٹھہرے۔گو مدینہ کا نام پہلے