تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 326
الْمِيْزَانَ اِنِّيْۤ اَرٰىكُمْ بِخَيْرٍ وَّ اِنِّيْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ میں (اس وقت) یقیناً تمہیں اچھی حالت میں دیکھتا ہوں اور( ساتھ ہی) میں یقیناً تمہاری نسبت عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيْطٍ۰۰۸۵وَ يٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَ ایک تباہ کن دن کے عذاب سے ڈررہاہوں۔اور اے میری قوم تم ماپ اور تول کو انصاف الْمِيْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَآءَهُمْ وَ کے ساتھ پورا (کیا) کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو لَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ۰۰۸۶ اور فسادی بن کر زمین میں خرابی مت پھیلاؤ۔حل لغات۔اَلْمِکْیَالُ مَایُکَالُ بِہٖ۔وہ پیمانہ (ظرف) جس سے کسی چیز کی مقدار کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔چیزوں کا وزن معلوم کرنے کے دو طریق ہیں۔ایک برتن کے ذریعہ سے دوسرے بٹہ وغیرہ کے مقابلہ پر وزن کرنے سے۔گویا ایک جگہ کے لحاظ سے اور ایک بوجھ کے ذریعہ سے۔پرانے زمانہ میں جگہ کے لحاظ سے زیادہ لین دین کیا جاتا تھا۔اور آج کل بوجھ کے لحاظ سے اندازہ کرنے کا زیادہ رواج ہے۔گو اب بھی سیال چیزوں کا جگہ کے لحاظ سے اندازہ کرتے ہیں۔مکیال ہر اس پیمانہ کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ سے دوسری چیز کا اندازہ کیا جائے۔الْمِیْزَانُ۔آلَۃُ ذَاتِ کَفَّتَیْنِ۔یُوْزَنُ بِہَا الشَّیْءُ وَیُعْرَفُ مِقْدَارُہٗ مِنَ الثِّقَلِ یعنی میزان ایک آلہ ہوتا ہے۔دو پلڑوں والا (یعنی ترازو) جس سے چیز کا وزن کیا جاتا ہے۔اور اس چیز کی مقدار بوجھ کے لحاظ سے معلوم کی جاتی ہے۔اَلْمِقْدَارُ۔یعنی یہ لفظ مطلق مقدار کے معنوں میں بھی مستعمل ہوتا ہے۔(اقرب) تفسیر۔آسودہ حال کا فریب کرنا بدترین ہے اِنِّيْۤ اَرٰىكُمْ بِخَيْرٍ۔میں تم کو اچھی اور آسودہ حالت میں دیکھتا ہوں۔یعنی ٹھگی کا موجب اگر فقر ہو تب بھی وہ بری چیز ہے لیکن مال دار آدمی فریب سے لوگوں کا مال لوٹے تو وہ اور بھی برا ہے۔