تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 325
باب ۱۳)۔اس کے برخلاف قرآن کریم انہیں نیک بتاتا ہے۔بائبل سے معلوم ہوتا ہے کہ ان تینوں آنے والوں نے حضرت ابراہیم ؑ کا پیش کردہ کھانا کھایا(پیدا ئش ۱۸/۸)۔قرآن کریم اس کا منکر ہے۔اور عجیب بات یہ ہے کہ بائبل سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ تین شخص جو آئے تھے ان میں سے ایک خود خدا تھا۔اور دوسرے دو فرشتے تھے۔مگر باوجود اس کے وہ یہ شہادت دیتی ہے کہ انہوں نے کھانا کھایا۔ہر اک عقلمند ان دونوں بیانوں میں سچے بیان کو خود معلوم کرسکتا ہے۔بائبل بتاتی ہے کہ حضرت لوطؑ نے اپنی لڑکیوں کو بدکاری کے لئے پیش کیا تھا(پیدائش ۱۹/۸)۔قرآن کریم اس کے برخلاف انہیں بطور ضمانت پیش کرنے کا ذکر کرتا ہے۔ان کے سوا اور بھی اختلاف ہیں۔مثلاً بائبل کہتی ہے کہ حضرت لوط کی بیوی نمک کا کھمبا بن گئی تھی(پیدائش ۱۹/۲۶)۔قرآن کریم ایسی فضول باتوں سے بالکل پاک ہے۔یہ چند مثالیں قرآن کریم اور بائبل کے بیانات میں اختلافات اور ان کی حقیقت بیان کرنے کے لئے کافی ہیں۔مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ بِبَعِيْدٍؒ۰۰۸۴ جو تیرے رب کی تقدیر میں (ان کے لئے ہی) نشاندار (اور نامزد) کئےہوئے تھے اور ان( محمد رسول اللہ کے زمانہ کے) ظالموں سے (بھی) یہ عذاب دور نہیں۔حل لغات۔اَلْمُسَوَّمَۃُ الْمُرْسَلَۃُ۔آزاد چھوڑے ہوئے الْمُعْلَمُۃُ جن پر نشان لگایا ہوا ہو۔تفسیر۔اس آیت کے آخر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ قصہ نہیں ہے۔بلکہ پیشگوئی ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے لوگوں کے لئے بھی ایسے ہی عذاب مقدر ہیں اور لوط کی بستی کی طرح آپ کی قوم کے بعض مخالفوں کے لئے بھی نیست و نابود ہوجانا مقدر ہوچکا ہے۔وَ اِلٰى مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا١ؕ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ اور مدین کی طرف (ہم نے) ان کے بھائی شعیب کو (نبی بنا کر بھیجا) اس نے( انہیں) کہا اے میری قوم تم اللہ کی مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَ عبادت کرواس کے سوا تمہارا کوئی بھی معبود نہیں اور ماپ اور تول کو کم نہ( کیا) کرو