تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 299

تفسیر۔صالح کی اونٹنی کے متعلق تفسیروں میں بے سرو پا روایات صالح کی اونٹنی مدت سے انسانی قوت متخیلہ کے لئے ایک کھیل بن رہی ہے۔مفسرین نے ہر قسم کی روایات اس کے متعلق جمع کردی ہیں۔جن میں یہاں تک بیان ہوا ہے کہ حضرت صالح ؑ نے کفار کے مطالبہ پر دعا کرکے پہاڑ کے پیٹ سے ایک اونٹنی پیدا کی تھی اور جب وہ پیدا ہوئی اس وقت وہ حاملہ بھی تھی اور پھر فوراً اس کے بچہ بھی پیدا ہو گیا(تفسیر ابن کثیر زیر آیت ھذا)۔اور اسی قسم کی بے سروپا روایات جو عربوں میں مشہور تھیں انہوں نے تفسیروں میں نقل کردی ہیں اور یہ نہیں خیال کیا کہ ناواقف لوگوں پر ان روایات کا کیا اثر پڑے گا؟ اس اونٹنی کی پیدائش کا معجزانہ ہونا ثابت نہیں حقیقت یہ ہے کہ اونٹنی کی پیدائش کے معجزانہ ہونے کا کوئی ذکر قرآن کریم میں نہیں ہے۔بلکہ سورۂ شعراء میں فرماتا ہے قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَ۠۔مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۖۚ فَاْتِ بِاٰيَةٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۔قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ۔وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيْمٍ۔(الشعراء:۱۵۴تا۱۵۷) منکرین صالح نے کہا کہ تو صرف دھوکہ خوردہ ہے تو فقط ہمارے جیسا ایک آدمی ہے۔پس اگر تو سچا ہے تو کوئی نشان لے آ۔اس پر صالح نے کہا کہ یہ میری اونٹنی ہے اسے بھی اپنی باری پر پینے کا حق ہے۔اور تم کو بھی ایک مقرر دن پر اپنی باری کا پانی پینا ہوگا۔اور تم اسے کوئی تکلیف نہ دینا۔نہیں تو تم کو ایک بڑے دن کا عذاب پہنچے گا۔ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اونٹنی کی پیدائش نشان کے طور پر نہیں ہوئی تھی بلکہ اس کی آزادی کو ایک نشان قرار دیا گیا تھا۔اور اسے مارنے والے کے لئے عذاب مقرر تھا۔اگر اس کی پیدائش ایک نشان ہوتی تو صالح ؑ کفار کے مطالبہ پر کہتے کہ پہلے تمہارے مطالبہ پر یہ اونٹنی پہاڑ سے پیدا ہوچکی ہے۔لیکن بجائے اس کے وہ ان کے مطالبہ کے جواب میں اونٹنی کی آزادی کو آئندہ آنے والے نشان کے ساتھ وابستہ کرتے ہیں۔اونٹنی کس طرح نشان تھی اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ اونٹنی نشان کس طرح تھی؟ اس کا ایک جواب تو وہ ہے جو استاذی المکرم حضرت مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ دیا کرتے تھے کہ عرب اور دوسرے ممالک میں دستور تھا کہ بادشاہ اپنی طاقت کے اظہار کے لئے کوئی جانور چھوڑ دیا کرتے تھے اور اعلان کر دیا کرتے تھے کہ اسے کوئی کچھ نہ کہے۔اگر کوئی کچھ کہتا تو وہ اسے تباہ کر دیتے تھے۔اس طریق کی نقل میں حضرت صالح ؑ نے اپنی اونٹنی کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے نشان مقرر کیا کہ تمہاری دیرینہ رسم کے مطابق اس اونٹنی کو بھی نشان مقرر کیا جاتا ہے۔اگر تم اسے دکھ دو گے تو وہ الٰہی گورنمنٹ کا مقابلہ سمجھا جائے گا اور تم عذاب میں مبتلا کئے جاؤگے۔