تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 298
عَصَيْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِيْدُوْنَنِيْ۠ غَيْرَ تَخْسِيْرٍ۰۰۶۴ کی نافرمانی کروں تو اللہ (تعالیٰ) کے مقابل پر کون میری مدد کرے گا پھر( اس وقت تو) تم مجھے سوائے تباہی میں ڈالنے کے (اور) کسی بات میں نہیں بڑھاؤ گے۔حلّ لُغَات۔نَصَرَنَصَرَ فُلَانًا مِنْ عَدُوِّہٖ نَجَّاہُ مِنْہُ وَخَلَّصَہٗ وَاَعَانَہٗ وَقَوَّاہُ عَلَیْہِ (اقرب) یعنی جب نَصَرَ کا صلہ مِنْ ہو تو اس کے معنی مدخول مِنْ کے خلاف کسی کو مدد دینے کے ہوتے ہیں۔پس اس کے معنی ہوئے اسے اس کے دشمن کے مقابل پر مدد دی۔اور اس سے بچا لیا۔خَسَّرَہٗ جَعَلَہٗ یَخْسِرُ۔اسے گھاٹے میں ڈال دیا نَسَبَہٗ اِلَی الْخُسْرَانِ۔اسے گھاٹا پانے والا قرار دیا۔ا۔ضَلَّہُ اسے گمراہ کیا۔اَھْلَکَہُ اسے ہلاک کیا۔(اقرب) تفسیر۔حضرت صالح کہتے ہیں کہ تم کہتے ہو اس تعلیم کی وجہ سے ہمیں شبہات پیدا ہورہے ہیں اور اگر تو اسے پیش نہ کرتا تو ہم تجھے اپنا لیڈر بنانے کے لئے تیار تھے سوچو تو سہی کہ اگر میں فی الواقع خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں تو اس کی تعلیم کو چھوڑ کر تمہاری لیڈری مجھے کیا نفع پہنچا سکتی ہے۔اس صورت میں تمہاری امداد تو میرے لئے نقصان ہی نقصان کے سامان پیدا کرے گی۔وَ يٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰيَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِيْۤ اور اے میری قوم یہ( اونٹنی) درانحالیکہ تمہارے لئے (میری سچائی کا)ایک نشان ہے اللہ (تعالیٰ ہی) کی( طرف اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ منسوب ہوسکنے والی) اونٹنی ہے۔اس لئے تم اسے (آزاد پھرتی )رہنے دو کہ اللہ کی زمین میں (چل پھر کر) کھائے قَرِيْبٌ۰۰۶۵ (پیئے) اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچانا ورنہ تمہیں ایک جلد آنے والا عذاب پکڑ لے گا۔حلّ لُغَات۔ذَرْ۔ذَرْہُ اَیْ دَعْہُ۔چھوڑ دے کہتے ہیں ذَرْہ وَ اَحْذَرْہُ اسے چھوڑ دے اور اس سے بچ۔(اقرب)