تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 300
کیا اونٹنی کو آزاد چھوڑنا نبی کی شان کے منافی نہیں ہے ان معنوں پر اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ جو اس قسم کے جانور چھوڑے جاتے تھے وہ بطور سانڈھ کے ہوتے تھے اور ان کو چھیڑنا یا کھیتوں سے روکنا ناجائز سمجھا جاتا تھا۔اور یہ امر ایک نبی کی شان کے خلاف ہے کہ ایک جانور کو چھوڑ دے کہ لوگوں کے کھیتوں کو کھاتا پھرے۔اور روکنے والوں کو عذاب کی دھمکی دے۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک ایک نبی کی شان کے یہ خلاف ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر امر میں پرانی رسم کی اتباع کی جائے۔افتادہ زمینوں میں آزادی سے چرنا مراد ہے نہ کہ لوگوں کے کھیتوں میں حضرت صالح ؑ نے یہ شرط نہیں کی تھی کہ جس کی کھیتی میں یہ جانورچاہے گھس جائے۔بلکہ صرف یہ شرط رکھی تھی کہ عام افتادہ زمینوں میں یہ چرے گی۔وہاں اسے نہ چھیڑا جائے۔چنانچہ اس آیت میں صاف الفاظ میں فرمایا ہے کہفَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِيْۤ اَرْضِ اللّٰهِ اس اونٹنی کو چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں چرے۔پس لوگوں کے کھیتوں میں اونٹ چرانے کا اعلان حضرت صالح ؑ نے نہیں کیا تھا۔بلکہ صرف افتادہ زمینوں میں جن کا کوئی مالک نہ تھا اور جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کے تصرف میں تھیں کہ اس کے اوپر بادل برس کر وہاں گھاس اگا دیتے تھے کسی کو ان کی سرسبزی کے لئے کچھ نہ کرنا پڑتا تھا۔تبلیغ کے لئے آزادی سے پھرنا بھی مراد ہو سکتا ہے میرے نزدیک اس نشان کا یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ کسی دیرینہ رسم کی طرف اشارہ نہ ہو بلکہ حضرت صالح ؑ کا یہ مطلب ہو کہ تبلیغ کے لئے مجھے ادھر ادھر پھرنے دو اور اس میں روک نہ ڈالو۔اور یا’’ خدا کی زمین میں چرنے دو‘‘ کے یہ معنی ہوں کہ ضروریات دینی کے پورا کرنے کے لئے جو میں مختلف علاقوں میں پھروں تو اس میں روک نہ ڈالو۔اور یہ مجاز مختلف زبانوں میں استعمال ہوتا ہے اور مراد سوار کا روکنا ہوتا ہے۔حالانکہ روکا سواری کو جاتا ہے۔بسا اوقات جب ایک مسافر کو لوگوں نے کھڑا کرنا ہوتا ہے تو اس کی سواری کو پکڑ لیتے ہیں اور اس سے ان کی مراد سواری کو نہیں بلکہ سوار کو روکنا ہوتی ہے۔اسی طرح معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ حضرت صالح ؑ کے تبلیغی سفروں میں روک ڈالتے ہوں گے اور ادھر ادھر پھرنے نہیں دیتے ہوں گے اس پر خدا تعالیٰ نے ان کو منع کیا اور فرمایا کہ صالح ؑکی اونٹنی کو ادھر ادھر پھرنے دو۔مطلب یہ کہ صالح ؑ کے سفروں میں روک نہ ڈالو۔جہاں چاہے وہ اپنی اونٹنی پر بیٹھ کر چلا جائے۔اور خدا کا کلام پہنچائے۔چونکہ وہ لوگ بھی اس کلام کے مطلب کو سمجھتے تھے انہوں نے حضرت صالح ؑ کی اونٹنی کو مار دیا۔اور گویا دوسرے الفاظ میں یہ کہا کہ ہم تم کو اپنے ملک میں تبلیغ کرنے کی عام اجازت نہیں دے سکتے۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ عذاب میں گرفتار ہو کر ہلاک ہو گئے۔ایک تیسرے معنی بھی میرے نزدیک اس آیت کے ہوسکتے ہیں اور وہ یہ کہ حضرت صالح نے تجربہ سے جب