تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 297
تھا دوسرے اس سے سیراب ہوتے ہیں۔یہی نظارہ پھر اس وقت ظاہر ہورہا ہے۔مسلمان ایک آنے والے کے منتظر تھے وہ آ گیا۔اور دوسری قومیں اس سے فائدہ اٹھارہی ہیں مگر وہ ہیں کہ ابھی اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کے لئے تیار نہیں۔شکوک دور کرنے والی تعلیم ثمود کے لئے شکوک کا موجب کیوں بنی؟ اَتَنْهٰىنَاۤ۔کیا تو ہمیں باپ دادوں کے طریق عبادت سے روکتا ہے۔یعنی ہم تو سمجھتے تھے کہ تو باپ دادا کی عزت کو بلند کرے گا مگرتو تو الٹا ان کی جڑیں کاٹنے لگ گیا ہے۔جب انسان کے اندر بیماری ہو تو اس کے منہ کا مزہ بگڑ جاتا ہے۔چونکہ ان لوگوں کے دل خراب ہوگئے تھے وہی تعلیم جو شکوک کو دور کرنے کے لئے آئی تھی اسی کی نسبت کہتے ہیں کہ ہمارے دل اس کی وجہ سے شکوک سے بھر گئے ہیں۔حضرت صالح کی قوم کا یہ کہنا کہ ہمیں تو تجھ پر بہت سی امیدیں تھیں صرف لالچ دلانے کے لئے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ اس کی طرف سے جس قدر مامور آتے ہیں وہ سب ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جو بچپن سے لوگوں کے دلوں پر اپنی قابلیت اور نیکی سے گہرا اثر پیدا کرلیتے ہیں اور یہ امر ضروری ہوتا ہے کیونکہ شروع دعویٰ میں نہ ابھی پیشگوئیاں پوری ہوئی ہوتی ہیں اور نہ تعلیم مکمل ہوئی ہوتی ہے۔اس وقت ان کی گزشتہ زندگی ہی ان کی صداقت کی دلیل ہوتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا اور حضرت خدیجہؓ اور حضرت ابوبکرؓ اور حضرت علیؓ اور حضرت زیدؓ اس دلیل کی بنا پر بغیر کسی نشان و معجزہ اور تفصیلی تعلیم کے سننے کے آپ پر ایمان لے آئے۔قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَ اس نے کہا اے میری قوم بتاؤ اگر میں (فی الواقع اپنے دعویٰ کی بنا) اپنےرب کی طرف سے (عطا شدہ) کسی روشن اٰتٰىنِيْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ يَّنْصُرُنِيْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ ثبوت پررکھتا ہوں اور اس نے مجھے اپنی جناب سے ایک (خاص) رحمت عطا کی ہے تو( باوجود اس کے )اگر میں اس