تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 296
قَالُوْا يٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِيْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ انہوں نے کہا اے صالح اس سے پہلے( تو)تو ہمارے درمیان( آئندہ کے لئے) امید کی جگہ (سمجھا جاتا) تھا اَنْ نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِيْ شَكٍّ مِّمَّا ( اب) کیا تو (باوجوداس عقل و دانش کے) ہمیں اس بات سے روکتا ہے کہ ہم ایسی چیز کی عبادت کریں جس کی تَدْعُوْنَاۤ اِلَيْهِ مُرِيْبٍ۰۰۶۳ ہمارے باپ (دادے) کرتے آئے ہیں اور (سچ تو یہ ہے کہ) جس بات کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے اس کے متعلق ہم ایک بے چین کر دینے والے شک میں (پڑے ہوئے) ہیں۔حلّ لُغَات۔اَرَابَہُ یُرِیْبُہٗ اِرَابَۃً شَکَّکَہٗ وَجَعَلَ فِیْہِ رِیْبَۃً۔اس کے دل میں شک ڈال دیا۔اَرَابَہٗ مِنْہُ أَمْرٌأَ سَاءَ بِہِ الظَّنَّ وَلَمْ یَسْتَیْقِنْ مِنْہُ الرِّیْبَۃَ اس کی نسبت بدگمانی کی۔اَرَابَکَ فُلَانٌ۔بَلَغَکَ عَنْہُ الشَّیْءُ اَوْتَوَھَّمَتْہُ۔تجھے اس سے کوئی شکایت پہنچی۔یا تو نے اس کے متعلق کسی شکایت کا خیال کیا۔زَیْدًا اَقْلَقَہٗ وَاَزْعَـجَہٗ۔قَالَ الْمُتَنَبِّیْ۔۔۔۔مَااَرَابَکَ مَنْ یُّرِیْبُ اسے گھبرا دیا اور فکر میں ڈال دیا۔چنانچہ متنبی نے اس لفظ کو ان معنوں میں استعمال کیا ہے اور لکھا ہے کہ جس بات نے تجھے بے چین کر دیا ہے اس نے کس شان کے انسان کو بے چین اور بے قرار کیا ہے۔(اقرب) تفسیر۔حضرت صالح کے متعلق ان کی قوم کی پہلے سے امیدیں اور حقیقۃً ان کا پورا ہونا صالح علیہ السلام کی قوم شاکی ہے کہ ہم تو تیرے ذہن رسا اور خدا داد طاقتوں کو دیکھ کر امید لگائے بیٹھے تھے کہ تو قوم کے لئے طاقت اور قوت کا موجب ہوگا لیکن تو تو الٹا قوم کو تباہ کرنے لگا ہے۔مگر قوم نے یہ نہ خیال کیا کہ ان کی امیدیں جو صالح کے متعلق تھیں وہ تو پوری ہوگئیں اور فی الواقع وہ قوم کے لئے مفید وجود بن گئے لیکن ان کی امیدیں اپنی ذاتوں کے متعلق پوری نہ ہوئیں اور اس مفید تحریک سے جو صالح ؑ کے ذریعہ سے قائم ہوئی تھی وہ محروم رہ گئے۔انسان بھی کس قدر کمزور ہے وہ کبھی امید لگاتا ہے اور وہ امید پوری ہوجاتی ہے مگر عین اس وقت جب اس کی برسوں کی بلکہ اس کی قوم کی صدیوں کی امیدی پوری ہونے لگتی ہیں وہ منہ موڑ کر چلا جاتا ہے۔اور جو چشمہ اس کے گھر سے پھوٹا