تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 263

چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے سَمِعُوْا لَهَا شَهِيْقًا وَّ هِيَ تَفُوْرُ۔(الملک :۸) کافر دوزخ کی آواز سنیں گے اور وہ جوش میں آرہی ہوگی۔پس اس صورت میں اس کے یہ معنی ہوں گے کہ پانی چاروں طرف پھیل گیا۔(بحرمحیط زیرآیت مذکورہ) زَوْجٌ زَوْجٌ کے معنی ہیں کُلُّ وَاحِدٍ مَعَہُ اٰخَرُ مِنْ جِنْسِہِ ہر اک وہ چیز جس کے ساتھ اس کی جنس میں سے ایک اور وجود بھی ہو (اقرب) پس زوج کے معنی ساتھ کے جوڑے کے ہوتے ہیں۔نہ کہ دو دو چیزوں کے اور اسی وجہ سے اِثْنَیْنِ کا لفظ لگا کر واضح کر دیا گیا ہے کہ مراد دو ہم جنس جانور ہیں نہ کہ دو جوڑے یعنی چار جانور۔حضرت نوح ؑ کو حکم تھا کہ ضروری جانوروں میں سے ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ اپنے ساتھ رکھ لیں۔تفسیر۔پانی کا عذاب آسمانی اور زمینی دونوں قسم کا جمع ہو گیا تھا یعنی یہ جواب وسوال اور دشمنوں کی طرف سے ہنسی اور حضرت نوح علیہ السلام کی طرف سے صبر اور توکل کا اظہار اسی طرح ہوتا چلا گیا۔یہاں تک کہ چشموں کی جگہوں سے پانی پھوٹ پڑا۔یا یہ کہ سطح زمین پر پانی بہنے لگا۔یہ عذاب جو حضرت نوح ؑ کی قوم پر آیا صرف کسی زمینی چشمہ کے پھوٹنے کے سبب سے نہ تھا بلکہ جیسا کہ قرآن کریم کے دوسرے مقامات سے ظاہر ہے اصل سرچشمہ پانی کا بادل تھے۔عذاب سے قبل اس قدر بارش ہوئی کہ سب جگہ پانی ہی پانی ہو گیا۔اور جیسا کہ کثرت بارش کے وقت میں ہوا کرتا ہے۔زمین کے سوتے بھی جاری ہو گئے اور اس آسمانی اور زمینی پانی نے مل کر اس علاقہ کو تباہ کر دیا۔سورۂ قمر رکوع اول میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُيُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ(القمر:۱۳)۔اور ہم نے زمین میں چشمے پھوڑ دیئے اور پانی مقررہ امر کے لئے اس میں مل گیا۔یعنی آسمانی پانی زمینی پانی سے مل کر دنیا کو تباہ کرنے لگا۔اسی سورۃ یعنی ہود میں چند آیات آگے چل کر فرمایا ہے يٰۤاَرْضُ ابْلَعِيْ مَآءَكِ وَ يٰسَمَآءُ اَقْلِعِيْ (ھود:۴۵) اس میں بھی بارش کا ذکر ہے اور سورۂ قمر میں ہےفَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ (القمر:۱۲) اس پر ہم نے آسمان کے دروازے ایک شدت سے برسنے والے پانی کے ذریعہ سے کھول دیئے۔غرض آیات قرآنیہ سے ثابت ہے کہ پانی اوپر سے بھی برسا اور زمین سے بھی نکلا اور دونوں پانیوں کے ملنے سے حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پر تباہی آئی اور یہ بات نہ صرف یہ کہ خدا تعالیٰ کی قدرت میں ہے بلکہ اس کے عام قانون قدرت کے بھی مطابق ہے۔یہ عام قاعدہ ہے کہ جب بارش زور سے پڑے تو زمین سے بھی پانی ابلنے لگ جاتا ہے اور خصوصاً پہاڑی علاقوں میں کہ جہاں چشموں کا پانی اونچے پہاڑوں پر پڑی ہوئی برف کے پانی سے نکلتا ہے جس وقت بارش ہوتی ہے تو برف کے گھلنے کی وجہ سے ان کے پانیوں میں زیادتی آجاتی ہے۔